بین الاقوامی قانون میری طاقت کو محدود نہیں کرتا، کسی بھی ملک میں کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہیں، صدر ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک پر امریکی فوجی کارروائی کا اختیار ان کے پاس ہے، اور ان کی ’اپنی اخلاقیات‘ ہی واحد حد ہے جو انہیں روک سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ بے قابو، وینزویلا کے بعد کس کا نمبر ہے؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹروہو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کے فیصلے بین الاقوامی قوانین سے محدود نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے وہ کسی بھی ملک میں کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری اپنی اخلاقیات، میرا اپنا فیصلہ ہے یہی وہ چیز ہے جو مجھے روکتی ہے۔
فوجی اقدامات اور امریکی پالیسی
صدر نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ طاقتور اقدامات اور فوجی کارروائیاں امریکہ کے عالمی مفادات کے تحفظ میں مددگار ہیں۔ انہوں نے گرین لینڈ اور وینزویلا کے معاملات کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ امریکی طاقت کے استعمال سے وہ عالمی سطح پر اپنے ملک کے مفادات کو مضبوط کر سکتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون اور اخلاقیات
صدر ٹرمپ نے کہا کہ کبھی کبھار بین الاقوامی قانون پر عمل ضروری لگتا ہے، لیکن اس کا اطلاق اس بات پر منحصر ہے کہ اس قانون کی تعریف کس طرح کی گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی فیصلہ اخلاقیات پر منحصر ہونا چاہیے، نہ کہ دیگر عالمی قواعد پر۔
یہ انٹرو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوجی آپریشنز اور بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے دنیا بھر میں بحث جاری ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ عالمی طاقت کے استعمال میں انہیں آزادی حاصل ہے اور وہ صرف اپنی اخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔