مسلم ممالک کی اسرائیلی وزیر خارجہ کے دورۂ صومالی لینڈ کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی وزیر خارجہ کے متنازع صومالی لینڈ کے غیرقانونی دورے کی مذمت کرتے ہوئے صومالیہ سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، ایران، قطر، عمان، مصر، لیبیا، یمن، انڈونیشیا اور صومالیہ، سمیت 22 اسلامی ملکوں کے وزرائے خارجہ اور او آئی سی نے مشترکہ بیان جاری کردیا۔
بیان کے مطابق 6 جنوری 2026 کو اسرائیلی وزیر خارجہ کا دورہ صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ ناقابل قبول ہے اور اس سے خطے میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ عالمی تنقید کے باوجود اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیدون سار نے متنازع علاقے صومالی لینڈ کا دورہ کرکے خود ساختہ صدر عبد الرحمان سے ملاقات کی تھی۔
خبر ایجنسی کے مطابق گیدون سار نے صدر اور دیگر سینئر عہدیداروں سے ہرجیسہ میں ملاقات کرکے مستقبل میں سفارت خانے کھولنے اور سفیروں کی تعیناتی پر بات چیت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیر صومالی لینڈ
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔