بھارت خطے اور عالمی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی کررہا ہے،پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت خطے اور عالمی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے اور دوسروں کو نصیحت کرنے کے بجائے اسے اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے زور دے کر کہا کہ پاکستان بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے بے بنیاد بیان کو مسترد کرتا ہے، بھارتی وزیر خارجہ کے الزامات گمراہ کن ہیں، بھارت ریاستی دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت کا ریکارڈ خطے اورعالمی سطح پر دہشت گردی کی پشت
پناہی کا عکاس ہے، پاکستان پر بھارتی الزامات اس کے امن دشمن اقدامات کو نہیں چھپاسکتے، بھارت کو دوسروں کو وعظ دینے کے بجائے خود کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان ایران کے خلاف بیرونی جارحیت، دھمکیوں اور جوہری معاہدے سے متعلق پابندیوں کو غیر تعمیری قرار دیتا ہے اور کسی بھی پڑوسی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کا مخالف ہے۔ صومالی لینڈ کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے اور پاکستان نے مختلف بین الاقوامی فورمز پر صومالی لینڈ کی غیر قانونی ریاست کی مخالفت کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔