بھارت میں ٹریفک حادثہ‘ متعدد طالب علم ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
نئی دہلی: بھارت میں ٹریفک حادثے کے باعث متعدد طالب علم موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست تلنگانہ کے رنگا ریڈی ضلع میں ایک خطرناک ٹریفک حادثہ پیش آیا، جس میں ایک تیز رفتار کار درخت سے ٹکرا گئی۔ مذکورہ حادثے کے نتیجے میں 4 طالب علم موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ1 طالبہ شدید زخمی ہو گئی۔ مقامی میڈیا کے مطابق (آئی بی ایس) سے تعلق رکھنے والے 5 طلبہ ایک ہی کار میں سفر کر رہے تھے کہ تیز رفتاری کے دوران گاڑی بے قابو ہو کر درخت سے ٹکرا گئی۔
حکام کے مطابق حادثے کے باعث ہلاک ہونے والوں میںسوریا تیج، سمیت، سری نکھل اور روہت نامی4 طالب علم ہلاک ہوگئے۔ جبکہ نکشترہ نامی طالبہ کو شدید چوٹیں آئیں۔ جسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
مذکورہ حوالے سے ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک شدہ طالب علم اور زخمی طالبہ آئی بی ایس کالج کے بی بی اے میں زیر تعلیم تھے۔ یہ بات بھی علم میں رہے کہ اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیم موقع پر ہی پہنچ گئے اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے چیوڑلہ کے سرکاری اسپتال منتقل کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل طالب علم
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔