اسلام آباد ٹریفک پولیس کی بڑی کارروائی، جعلی ڈرائیونگ لائسنس بنانے والا گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
اسلام آباد ٹریفک پولیس نے فیض آباد ٹریفک آفس کی پارکنگ سے جعلسازی میں ملوث ملزم مطیب الرحمان عباسی کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کے قبضے سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے جعلی ڈرائیونگ لائسنس برآمد ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد ٹریفک پولیس کا ’گڈ سٹیزن‘ اسٹیکر کیا ہے؟
چیف ٹریفک آفیسر کیپٹن (ر) حمزہ ہمایوں نے بتایا کہ ٹریفک دفاتر کے باہر ویجیلینس ٹیمیں تعینات کی گئی تھیں۔ یہ کارروائی اس وقت ممکن ہوئی جب ایک شہری نے پولیس کو اطلاع دی کہ ایک شخص پیسے لے کر جعلی لائسنس بنا رہا ہے۔
ویجیلینس ٹیم نے فوری ریکی کے بعد ملزم کو گرفتار کیا اور اس کے خلاف سخت کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔
ٹریفک پولیس نے شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ جعلی لائسنس یا بلیک میلنگ کرنے والوں سے محتاط رہیں اور مقررہ فیس سے زیادہ کسی کو پیسہ نہ دیں۔ کسی بھی شکایت کی صورت میں شہری فوری طور پر ٹریفک ہیلپ لائن 1915 یا ٹریفک ہیڈ کوارٹر سے رابطہ کریں۔
اسلام آباد ٹریفک پولیس نے واضح کیا کہ وہ میرٹ پر کام کرتی ہے اور شہریوں کو بہترین سہولت فراہم کرنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد ٹریفک پولیس اسلام آباد پولیس جعلی لائنس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ٹریفک پولیس اسلام ا باد پولیس جعلی لائنس اسلام آباد ٹریفک پولیس
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔