ذاتی رنجش کے بنا پر سرگودھا میں 38 سالہ نوجوان اغواکے بعد قتل
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
سرگودھا میں 38 سالہ نوجوان کو اغوا کر کے قتل کر دیا گیا اور نعش کے ٹکڑے بوری میں ڈال کر کھیتوں میں پھینک دیئے جنہیں پولیس نے 13 روز بعد قاتل کی نشاندہی پر برآمد کر کے پوسٹمارٹم کے ہسپتال منتقل کر دیئے اور آلہ قتل کی برآمدگی کے لئے مصروف تفتیش ہے۔زرائع کے مطابق سرگودہا کے علاقہ جھال چکیاں کے گائوں حبیب کالونی میں 26 دسمبر 2025 کو 38 سالہ نوجوان امان اللہ کے اچانک لاپتہ ہونے پر پولیس تھانہ جھال چکیاں نے اس کے اغوا کا مقدمہ تھانہ جھال چکیاں نے اس کے بھائی کی مدعیت میں درج کر کے مغوی کی تلاش شروع کر دی اور مغوی کے ایک رشتہ دار شعیب کو شامل تفتیش کیا تو اس نے انکشافات کیا کہ اگر امان اللہ کو قتل نہ کرتا تو وہ مجھے قتل کر دیتا جس کی نعش کے ٹکڑے کر کے بوری میں ڈال کر کھیتوں میں پھینک دیئے کیونکہ وہ میری بیوی کے بارے میں غلط تہمت لگاتا تھا۔جس کی نشاندہی پر پولیس نے بوری بند نعش کے ٹکڑے برآمد کر کے پوسٹمارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کر دیئے اور آلہ قتل کی برامدگی کے لئے مصروف تفتیش ہے۔جس نے اغوا کے مقدمہ میں قتل کی دفعات شامل کر لی ہیں-
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔