کیا سی ایس ایس افسران اب مصنوعی ذہانت کی تربیت حاصل کریں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی نے سول سروسز اکیڈمی میں ’آرٹیفیشل انٹیلی جنس 101‘ ماڈیول کا افتتاح کیا، جس کے تحت سی ایس ایس کے نصاب میں مصنوعی ذہانت کی تربیت شامل کی گئی ہے۔
وزیر نے خصوصی سی ایس ایس بیچ کے 108 پروبیشنری افسران سے خطاب میں کہا کہ یہ اقدام حکومت کے ڈیجیٹل نیشن وژن کے تحت اٹھایا گیا ہے اور یہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کے مطابق ایک حکومتی اصلاحاتی فریم ورک کے طور پر نافذ کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی سے شادی کے وعدے کیوں لکھوائے؟ عدالت نے شادی غیر قانونی قرار دے دی
اس خصوصی بیچ میں بلوچستان کے 52 اور سندھ کے 56 افسران شامل تھے۔ اے آئی ماڈیول وزارتِ آئی ٹی و ٹیلیکام، پلاننگ کمیشن، سول سروسز اکیڈمی اور ایٹم کیمپ کے اشتراک سے تیار کیا گیا۔
وزیر نے بتایا کہ قومی مصنوعی ذہانت کی پالیسی میں حکومت کے اداروں میں انسانی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔ اس تربیت کا مقصد مستقبل کے سول سرونٹس کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دار اور مؤثر استعمال کے لیے تیار کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا اے آئی سیکھنے کی صلاحیت متاثر کر رہی ہے؟ نئی تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف
اس پروگرام کے تحت 150 پروبیشنری افسران کو دو روزہ تربیت دی گئی، جس میں اے آئی کی بنیادی معلومات، پرامپٹ انجینئرنگ، انتظامی اور تحقیقی اطلاقات، پیداواری آلات اور اخلاقی پہلو شامل تھے۔ 30 فیکلٹی ممبران کے لیے ٹریننگ آف ٹرینرز پروگرام بھی مکمل کیا گیا تاکہ وہ ماسٹر ٹرینرز کے طور پر تربیت فراہم کر سکیں۔
وزیر نے اعلان کیا کہ اب اے آئی کی تربیت CSA کے باقاعدہ نصاب کا حصہ بن چکی ہے اور تمام مستقبل کے بیچز کو منظم طور پر مصنوعی ذہانت کی تعلیم دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی ایٹم کیمپ کے ساتھ شراکت داری کو مزید جدید ماڈیولز کے لیے بڑھایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شادی کرلو ورنہ میری طرح پچھتاؤگے، چینی نوجوانوں کو ’اے آئی خواتین‘ کی دل دہلادینے والی نصیحتیں
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت نے 39 میں سے 38 ڈویژنز میں 100 فیصد ای-آفس نظام نافذ کر دیا ہے جس سے فائلوں کی کارروائی کا دورانیہ 25 سے 30 دن سے کم ہو کر صرف 4 دن رہ گیا ہے۔ سستی ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ، سائبر سیکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے ملک کی ڈیجیٹل حکمت عملی کو تقویت ملی ہے۔
شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ وزارت اے آئی کی تربیت کو درمیانی اور سینئر افسران تک بھی بڑھائے گی اور تمام صلاحیت سازی کے اقدامات ابھرتے ہوئے اے آئی گورننس اور ڈیٹا پروٹیکشن فریم ورکس کے مطابق ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ’اے آئی ایٹمی طاقت جیسی، نیا عالمی ’اے آئی کلب‘ بن رہا ہے‘
یہ اقدام ڈیجیٹل نیشن پاکستان قانون سازی کے تحت اٹھایا گیا، جسے دسمبر 2024 میں قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت نیشنل ڈیجیٹل کمیشن قائم کیا جائے گا جس کی سربراہی وزیراعظم کریں گے اور اس میں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور اہم ریگولیٹری اداروں کے سربراہ شامل ہوں گے تاکہ ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی نگرانی کی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی سی ایس ایس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی سی ایس ایس مصنوعی ذہانت کی یہ بھی پڑھیں سی ایس ایس کی تربیت اے ا ئی اے آئی کے لیے کے تحت
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔