جدت، مالی استحکام، ضابطہ جاتی نگرانی کے درمیان توازن کی کوشش کر رہے ہیں: وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان مالی شمولیت اور جدید مالی آلات و ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیشرفت کا بغور جائزہ لے رہا ہے ، جدت، مالی استحکام اور ضابطہ جاتی نگرانی کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔وہ جمعرات کویہا ں گلوبل پے منٹ نیٹ ورک ’’ویزا ‘‘کے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کررہے تھے۔ وفد کی قیادت وسطی یورپ ، مشرقی ایشیا اور افریقہ کیلئے ویزا کے علاقائی صدر طارق محمود کررہے تھے۔وزیرِ خزانہ نے وفد کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کے مالیاتی شعبے کے ساتھ ویزا کی مسلسل شمولیت اور تعاون کو سراہا۔ ملاقات میں پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے معاشی اشاریوں، جاری معاشی استحکام کی کوششوں اور پائیدار و جامع اقتصادی ترقی کے حصول کیلئے حکومت کی ترجیحات پر تبادلہ خیال ہوا۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے وفد کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈکے تعاون سے جاری پروگرام کے تحت ہونے والی پیش رفت، بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے حاصل ہونے والی بیرونی توثیق اور حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ایجنڈے میں ٹیکس وتوانائی کے شعبے میں اصلاحات، سرکاری ملکیتی اداروں کی تنظیم نو و بہتری، عوامی قرضوں کے انتظام اور نجکاری شامل ہیں، نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ فریقین نے پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاجس میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ ، ادائیگیوں کے نظام اور حکومتی ادائیگیوں کی ڈیجیٹائزیشن پر خصوصی توجہ دی گئی۔ وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹلائزیشن پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے اور وزیراعظم خود اس میں دلچسپی لے رہے ہیں تاکہ حکومت کے تمام شعبوں میں مربوط اور ہم آہنگ عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے جاری اقدامات کا خاکہ پیش کیا، جن میں پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کا قیام، سٹیٹ بینک آف پاکستان کے تحت ادائیگیوں کے نظام میں اصلاحات اور شفافیت، کارکردگی اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کیلئے حکومتی وصولیوں اور اخراجات کی ڈیجیٹائزیشن کی کوششیں شامل ہیں۔ویزا کے وفد نے پاکستان میں بینکوں، فِن ٹیک اداروں اور دیگر متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ اپنے روابط کے حوالے سے آگاہ کیا، اور بتایا کہ معاشی استحکام کے باعث اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور ڈیجیٹل ادائیگیوں، مالی شمولیت اور جدت کے فروغ میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔گفتگو میں نقدی کے استعمال میں کمی، فراڈ سے بچاؤ، چھوٹے اور نینو کاروباروں کی معاونت، کیو آراور ٹیپ ٹو فون حل اور خاص طور پر دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروںمیں ادائیگی قبول کرنے کے انفراسٹرکچر کے فروغ کی اہمیت پر بھی بات کی گئی۔وفد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ادائیگی کے مختلف ذرائع میں انتخاب اور مسابقت برقرار رکھنا جدت کے فروغ، خطرات کے بہتر انتظام اور صارفین و تاجروں کیلئے بہتر نتائج کے حصول کے لیے نہایت اہم ہے۔ملاقات میں ابھرتے ہوئے شعبوں پر بھی گفتگو کی گئی، جن میں ترسیلاتِ زر، ای کامرس، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے متعلق سیاحت کے دوران ہونے والے اخراجات، اور ضابطہ شدہ فریم ورک کے تحت بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثوں جیسی نئی ٹیکنالوجیز کے ممکنہ استعمال شامل ہیں۔وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ پاکستان ان پیش رفتوں کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور جدت، مالی استحکام اور ضابطہ جاتی نگرانی کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ملاقات کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام، وسیع تر اقتصادی اصلاحات، اور ترقی کے ایجنڈے کی حمایت کے لیے ویزا، وزارتِ خزانہ اور متعلقہ ضابطہ کار اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رکھی جائے گی۔ویزا کے دورہ کرنے والے وفد میں سینئر وائس پریذیڈنٹ لیلا سرہان، سینئر نائب صدر حکومتی امور جوآن کوبا ،ویزا پاکستان کے کنٹری منیجر عمر خان اور ویزا گورنمنٹ سیلزکے نعمان مجید شامل تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاکستان کے کے درمیان مالی ا
پڑھیں:
پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
میانمار میں پاکستان کے سفیر طارق کریم(Tariq kareem) نے اپنی رہائش گاہ پر پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا۔
عشائیے میں یونین آف میانمار فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (UMFCCI) کے صدر، نائب صدر، میانمار چیمبر آف کامرس فار فارماسیوٹیکل اینڈ میڈیکل ڈیوائسز (MCCPMD) کے چیئرمین، دیگر معروف کاروباری شخصیات اور فارمیٹیک پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے وفد نے شرکت کی۔
اس موقع پر سفیر طارق کریم اور معزز مہمانوں کے درمیان خوشگوار اور بامقصد تبادلہ خیال ہوا، جس میں پاکستان اور میانمار کے درمیان تجارت و اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے، بالخصوص ادویہ سازی، ٹیکسٹائل اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے، جبکہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان براہ راست روابط (B2B Linkages) کو مضبوط بنانے کے امکانات پر گفتگو کی گئی