اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان مالی شمولیت اور جدید مالی آلات و ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیشرفت کا بغور جائزہ لے رہا ہے ، جدت، مالی استحکام اور ضابطہ جاتی نگرانی کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔وہ جمعرات کویہا ں گلوبل پے منٹ نیٹ ورک ’’ویزا ‘‘کے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کررہے تھے۔ وفد کی قیادت وسطی یورپ ، مشرقی ایشیا اور افریقہ کیلئے ویزا کے علاقائی صدر طارق محمود کررہے تھے۔وزیرِ خزانہ نے وفد کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کے مالیاتی شعبے کے ساتھ ویزا کی مسلسل شمولیت اور تعاون کو سراہا۔ ملاقات میں پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے معاشی اشاریوں، جاری معاشی استحکام کی کوششوں اور پائیدار و جامع اقتصادی ترقی کے حصول کیلئے حکومت کی ترجیحات پر تبادلہ خیال ہوا۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے وفد کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈکے تعاون سے جاری پروگرام کے تحت ہونے والی پیش رفت، بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے حاصل ہونے والی بیرونی توثیق اور حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ایجنڈے میں ٹیکس وتوانائی کے شعبے میں اصلاحات، سرکاری ملکیتی اداروں کی تنظیم نو و بہتری، عوامی قرضوں کے انتظام اور نجکاری شامل ہیں، نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ فریقین نے پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاجس میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ ، ادائیگیوں کے نظام اور حکومتی ادائیگیوں کی ڈیجیٹائزیشن پر خصوصی توجہ دی گئی۔ وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹلائزیشن پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے اور وزیراعظم خود اس میں دلچسپی لے رہے ہیں تاکہ حکومت کے تمام شعبوں میں مربوط اور ہم آہنگ عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے جاری اقدامات کا خاکہ پیش کیا، جن میں پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کا قیام، سٹیٹ بینک آف پاکستان کے تحت ادائیگیوں کے نظام میں اصلاحات اور شفافیت، کارکردگی اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کیلئے حکومتی وصولیوں اور اخراجات کی ڈیجیٹائزیشن کی کوششیں شامل ہیں۔ویزا کے وفد نے پاکستان میں بینکوں، فِن ٹیک اداروں اور دیگر متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ اپنے روابط کے حوالے سے آگاہ کیا، اور بتایا کہ معاشی استحکام کے باعث اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور ڈیجیٹل ادائیگیوں، مالی شمولیت اور جدت کے فروغ میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔گفتگو میں نقدی کے استعمال میں کمی، فراڈ سے بچاؤ، چھوٹے اور نینو کاروباروں کی معاونت، کیو آراور ٹیپ ٹو فون حل اور خاص طور پر دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروںمیں ادائیگی قبول کرنے کے انفراسٹرکچر کے فروغ کی اہمیت پر بھی بات کی گئی۔وفد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ادائیگی کے مختلف ذرائع میں انتخاب اور مسابقت برقرار رکھنا جدت کے فروغ، خطرات کے بہتر انتظام اور صارفین و تاجروں کیلئے بہتر نتائج کے حصول کے لیے نہایت اہم ہے۔ملاقات میں ابھرتے ہوئے شعبوں پر بھی گفتگو کی گئی، جن میں ترسیلاتِ زر، ای کامرس، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے متعلق سیاحت کے دوران ہونے والے اخراجات، اور ضابطہ شدہ فریم ورک کے تحت بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثوں جیسی نئی ٹیکنالوجیز کے ممکنہ استعمال شامل ہیں۔وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ پاکستان ان پیش رفتوں کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور جدت، مالی استحکام اور ضابطہ جاتی نگرانی کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ملاقات کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام، وسیع تر اقتصادی اصلاحات، اور ترقی کے ایجنڈے کی حمایت کے لیے ویزا، وزارتِ خزانہ اور متعلقہ ضابطہ کار اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رکھی جائے گی۔ویزا کے دورہ کرنے والے وفد میں سینئر وائس پریذیڈنٹ لیلا سرہان، سینئر نائب صدر حکومتی امور جوآن کوبا ،ویزا پاکستان کے کنٹری منیجر عمر خان اور ویزا گورنمنٹ سیلزکے نعمان مجید شامل تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پاکستان کے کے درمیان مالی ا

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار