حکومت بنگلہ دیش نے ایک تفصیلی وائٹ پیپر جاری کیا ہے جس میں گزشتہ 15 سال کے دوران ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر میں بدانتظامی، بدعنوانی اور ساختی کمزوریوں کو بے نقاب کیا گیا ہے، جس میں حسینہ واجد کے دور حکومت میں کی گئی پالیسیاں بھی شامل ہیں۔

یہ 3,272 صفحات پر مشتمل رپورٹ پوسٹس اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن ڈویژن کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع کی گئی ہے، جس کا مقصد ادارہ جاتی اصلاحات، شفافیت اور عوام کو بہتر ٹیلی کام سہولیات فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: شیخ حسینہ واجد کے استعفے کے بعد بنگلہ دیش میں کیا کچھ ہوا؟

رپورٹ کے اہم نکات:

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تعداد میں چھوٹے لائسنس، پیچیدہ منظوری کے مراحل اور کمزور نگرانی نے سیکٹر کو غیر مؤثر اور مہنگا بنا دیا۔ 5 جی اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کی تعارف میں رقم اور پالیسی کی رکاوٹیں حائل رہی ہیں۔ دیہی علاقوں میں صارفین کو کم معیار کی سروس کے باوجود زیادہ قیمتیں ادا کرنا پڑ رہی ہیں، جس سے ڈیجیٹل خلیج بڑھ رہی ہے۔

صارفین کی شکایات کا نظام غیر مؤثر ہے، جس سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔ اداروں کے کردار غیر واضح ہونے کی وجہ سے فیصلہ سازی اور جوابدہی متاثر ہوئی ہے۔

اصلاحات کی سفارشات:

ٹاسک فورس نے اداروں کی ذمہ داریوں کی واضح تقسیم، آزاد اپیل نظام، پالیسی ریسرچ یونٹ اور شفاف کارکردگی اشاریے متعارف کرانے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں ٹیکس نظام کو بھی ٹیلی کام ترقی میں بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: حسینہ واجد کے بینک لاکرز سے برآمد ہونے والا 10 کلو سونا ضبط

حکومت کا کہنا ہے کہ وائٹ پیپر کو پالیسی اصلاحات اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے ایک رہنما دستاویز کے طور پر استعمال کیا جائے گا، تاکہ عوامی خدمات بہتر اور مؤثر بن سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ وائٹ پیپر حسینہ واجد حکومت بنگلہ دیش وائٹ پیپر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: حسینہ واجد حکومت بنگلہ دیش وائٹ پیپر حسینہ واجد وائٹ پیپر گیا ہے

پڑھیں:

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔

اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔

موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔

دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے