data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وزارت خزانہ کی ایک تازہ رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت کیے گئے اقدامات میں شفافیت کی کمی سرمایہ کاری کی پیش بینی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایس آئی ایف سی کی سہولیات، ٹیکس رعایتیں اور پالیسی استثنیٰ اگر منظم اور واضح انداز میں سامنے نہ آئیں تو شراکت داروں کو اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے ممکنہ فوائد، لاگت اور نتائج کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ایس آئی ایف سی نے ادارہ جاتی رابطہ کاری اور کچھ رکاوٹیں دور کرنے میں کردار ادا کیا ہے، تاہم بھاری ٹیکس، توانائی کی بلند قیمتیں، بیرونی شعبے کی کمزور استحکام اور مالی گنجائش کی کمی جیسے بڑے مسائل برقرار ہیں، جس کے باعث اب تک کوئی بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان میں لانے میں کامیابی نہیں ملی۔

وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے وعدوں کے تحت ایس آئی ایف سی کی سالانہ رپورٹ کا پہلا مسودہ دسمبر 2026 تک اور حتمی رپورٹ مارچ 2027 میں پیش کی جائے گی۔ رپورٹ میں سرمایہ کاری سے متعلق تمام تفصیلات، منظور شدہ ٹیکس رعایتوں کی وجوہات، مالی لاگت اور منصوبوں کی پیش رفت شامل ہوگی۔

ماہرین کے مطابق ادارہ جاتی شفافیت، سرمایہ کاری سے متعلق منظم معلومات کی باقاعدہ اشاعت اور آرٹیکل 10-ایف کے نفاذ سے ایس آئی ایف سی کے اقدامات کی شفافیت اور اثر پذیری میں اضافہ ہوگا، جبکہ سرمایہ کار اعتماد اور مالی استحکام کے لیے یہ ناگزیر ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق ایس آئی ایف سی کے تحت کیے گئے اقدامات کارکردگی بہتر بنانے اور بیوروکریسی میں تاخیر کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم شفافیت کی کمی سے لین دین کے ممکنہ خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں، جسے دور کرنے کے لیے واضح اور منظم اقدامات کی ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایس آئی ایف سی سرمایہ کاری رپورٹ میں کی کمی

پڑھیں:

واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع

اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔

لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔

دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر