ایس آئی ایف سی میں شفافیت کی کمی سرمایہ کاری کے اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے: وزارت خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزارت خزانہ کی ایک تازہ رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت کیے گئے اقدامات میں شفافیت کی کمی سرمایہ کاری کی پیش بینی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایس آئی ایف سی کی سہولیات، ٹیکس رعایتیں اور پالیسی استثنیٰ اگر منظم اور واضح انداز میں سامنے نہ آئیں تو شراکت داروں کو اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے ممکنہ فوائد، لاگت اور نتائج کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ایس آئی ایف سی نے ادارہ جاتی رابطہ کاری اور کچھ رکاوٹیں دور کرنے میں کردار ادا کیا ہے، تاہم بھاری ٹیکس، توانائی کی بلند قیمتیں، بیرونی شعبے کی کمزور استحکام اور مالی گنجائش کی کمی جیسے بڑے مسائل برقرار ہیں، جس کے باعث اب تک کوئی بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان میں لانے میں کامیابی نہیں ملی۔
وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے وعدوں کے تحت ایس آئی ایف سی کی سالانہ رپورٹ کا پہلا مسودہ دسمبر 2026 تک اور حتمی رپورٹ مارچ 2027 میں پیش کی جائے گی۔ رپورٹ میں سرمایہ کاری سے متعلق تمام تفصیلات، منظور شدہ ٹیکس رعایتوں کی وجوہات، مالی لاگت اور منصوبوں کی پیش رفت شامل ہوگی۔
ماہرین کے مطابق ادارہ جاتی شفافیت، سرمایہ کاری سے متعلق منظم معلومات کی باقاعدہ اشاعت اور آرٹیکل 10-ایف کے نفاذ سے ایس آئی ایف سی کے اقدامات کی شفافیت اور اثر پذیری میں اضافہ ہوگا، جبکہ سرمایہ کار اعتماد اور مالی استحکام کے لیے یہ ناگزیر ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق ایس آئی ایف سی کے تحت کیے گئے اقدامات کارکردگی بہتر بنانے اور بیوروکریسی میں تاخیر کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم شفافیت کی کمی سے لین دین کے ممکنہ خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں، جسے دور کرنے کے لیے واضح اور منظم اقدامات کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایس آئی ایف سی سرمایہ کاری رپورٹ میں کی کمی
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔