وزارت پارلیمانی امور کی سالانہ کارکردگی رپورٹ وزیراعظم کو بھیجوائی جائیگی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260109-08-7
اسلام آباد(صاح نیوز)وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ حکومت تمام وزارتوں کی کارکردگی کے ذریعے گورننس کے ماڈل کو بہتر سے بہتر کرنا چاہتی ہے۔ وزارت پارلیمانی امور کی ایک سالہ کارکردگی کی رپورٹ وزیراعظم محمد شہباز شریف کو بھیجوائی جائے گی، وزارتوں کی کارکردگی کی رپورٹ کا مقصد خود احتسابی کے نظام کو مضبوط بنانا اور وزرا کو اپنی ذمے داریوں کا پابند بنانا ہے، وزارت پارلیمانی امور کا کردار صرف شکایات اور مسائل کے حل تک محدود نہیں بلکہ یہ سیاسی اور عوامی نمائندگی کے موثر ذرائع بھی فراہم کرتی ہے، حکومت ہر قسم کے مذاکرات کیلئے تیار ہے کیونکہ کسی بھی مسئلہ کا پائیدار حل بات چیت اور ڈائیلاگ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوری تا دسمبر 2025 کی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پیش کی جائے گی اور میڈیا کے ذریعے عوام کو بھی یہ پیش کی جائے گی، ہمارا مقصد یہ ہے کہ وزارتوں کی کارکردگی کے ذریعے حکومت گورننس کے ماڈل کو زیادہ سے زیادہ بہتر کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری، پاور سیکٹر، میری ٹائم افیئرز، مائنز اینڈ منرلز، خارجہ امور سمیت موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں کارکردگی بہتر نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جو کچھ کر رہی ہے اس حوالے سے قوم کو آگاہ کرنا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام وزرا کو وزیراعظم نے پابند کیا ہے کہ ایک سال میں ان کی وزارتوں نے جو اہداف مقرر کئے ہیں اس حوالے سے قوم کو آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت پارلیمانی امور کا کردار صرف شکایات اور مسائل کے حل تک محدود نہیں بلکہ یہ سیاسی اور عوامی نمائندگی کے موثر ذرائع بھی فراہم کرتی ہے جس سے ملک میں جمہوری عمل، سیاسی استحکام اور شفافیت کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف وزارتوں میں نمایاں بہتری اور ترقی دیکھنے میں آ رہی ہے اور ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ دسمبر 2025 تک کی وزارتوں کی مکمل کارکردگی کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جائے گی جس کی تفصیلات میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے بھی رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کا مقصد وزارتوں میں خود احتسابی کے نظام کو مضبوط بنانا اور وزرا کو اپنی ذمہ داریوں کا پابند بنانا ہے جبکہ ملک میں سرمایہ کاری اور ترقی کے واضح اشارے سامنے آ رہے ہیں۔ ملک میں سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف پہلے بھی مذاکرات کی حمایت کر چکے ہیں اور حکومت آج بھی ہر قسم کے مذاکرات کیلئے تیار ہے، کسی بھی مسئلہ کا پائیدار حل بات چیت اور ڈائیلاگ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت پارلیمانی امور نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مضبوط اور موثر رابطہ قائم کر رکھا ہے جبکہ اتحادی جماعتوں کی تجاویز اور تحفظات براہ راست وزیراعظم تک پہنچائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے متعدد مواقع پر سیاسی مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کو ناگزیر قرار دیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مذاکرات کو سیاست کا لازمی حصہ اور قومی مسائل کے حل کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، اسی مقصد کے تحت کمیٹیوں کو خصوصی مینڈیٹ دیا جاتا ہے تاکہ وہ عوام اور مختلف سیاسی جماعتوں کی موثر نمائندگی کر سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے مذاکرات کیلئے کھلی اور مثبت پالیسی اپنا رکھی ہے تاکہ اختلافات اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے ۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری پریس کانفرنس کر رہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وزارت پارلیمانی امور رپورٹ وزیراعظم انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل وزارتوں کی مذاکرات کی کی رپورٹ کے ذریعے ملک میں جائے گی
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔