پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں دو دہائیوں کی تاریخ ساز ترقی، سرمایہ کاری کیلیے روشن مستقبل کی نوید
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
پاکستان کی مستحکم معاشی بنیادیں اور معاشی پیش رفت، قومی خوشحالی اور سرمایہ کاری کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی دو دہائیوں کی تاریخ ساز کارکردگی، کے ایس ای 100 انڈیکس میں ڈالر کی بنیاد پر 161 فیصد اور روپے میں 190 فیصد شاندار اضافہ ہوا۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ دنیا کی بہترین کارکردگی دکھانے والے مارکیٹس میں عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر پہنچ گئی۔
ایس آئی ایف سی کی بصیرت اور مربوط سہولت کاری نے پاکستان کی معیشت اور سرمایہ کاری مارکیٹ کو مستحکم اور عالمی سطح پر ممتاز بنایا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں 41فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، گزشتہ 18 ماہ میں 135,000 نئے سرمایہ کار شامل ہوئے۔
گزشتہ 9 ماہ میں پی ایس ایکس کمپنیوں کی مالیاتی اعداد و شمار مستحکم ہوئے اور منافع میں تقریباً 14 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سال 2026 میں 16 سے زائد نئی لسٹنگز متوقع ہے جبکہ سرمایہ کاری میں شمولیت، لیکویڈیٹی اور مارکیٹ وسعت کے ساتھ پی ایس ایکس مزید بہتری کی جانب گامزن ہے۔ اسٹاک مارکیٹ کی بلندی پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے بہتر ماحول پر عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے۔
مشیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان کا میکرو اکنامک ماحول سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش اور قابلِ اعتماد مرکز بن چکا ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاروں، صارفین اور کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہوا۔
خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ عالمی ریٹنگ ایجنسیز اور مالی شراکت داروں کی جانب سے مثبت آؤٹ لک کا اعتراف کیا گیا۔ ایس آئی ایف سی کے توسط سے جو ممالک اور کاروباری ادارے پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہے ہیں اُن کے لیے سرمایہ کاری کا عمل سادہ اور مربوط ہوگا۔
ایس آئی ایف سی کی ہمہ جہت حکمتِ عملی نے پاکستان کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش ہب اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مرکز بنا دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری کے پاکستان اسٹاک اسٹاک مارکیٹ سرمایہ کاروں میں سرمایہ کے لیے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔