صوبے میں مزید 6ٹرینیں چلانے کیلیے سرمایہ کاری کرینگے، مراد علی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی کے درمیان ایک فیصلہ کن اجلاس میں صوبے کے ریلوے نظام کو جدید بنانے کے لیے اربوں روپے کے منصوبے پر اتفاق کیا گیا۔ اس منصوبے کا آغاز کراچی تا کشمور اور کراچی تا تھرپارکر روٹس سے ہوگا جس کا مقصد لاکھوں شہریوں کو جدید سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس میں عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہم صوبے بھر میں موجود 308 میں سے 100 مینڈ ریلوے کراسنگز کی تبدیلی، ریلوے نظام کی بحالی، اور پہلے مرحلے میں اپنے وسائل سے چھ ٹرینیں جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید چھ ٹرینیں چلانے کے لیے 6.
کراچی: وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سے وزیر ریلوے حنیف عباسی کی ملاقات کے دوران سندھ میں ریلوے نظام میں جدت سے متعلق گفتگو ہورہی ہے
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علی شاہ
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔