data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260109-08-15
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی کے درمیان ایک فیصلہ کن اجلاس میں صوبے کے ریلوے نظام کو جدید بنانے کے لیے اربوں روپے کے منصوبے پر اتفاق کیا گیا۔ اس منصوبے کا آغاز کراچی تا کشمور اور کراچی تا تھرپارکر روٹس سے ہوگا جس کا مقصد لاکھوں شہریوں کو جدید سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس میں عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہم صوبے بھر میں موجود 308 میں سے 100 مینڈ ریلوے کراسنگز کی تبدیلی، ریلوے نظام کی بحالی، اور پہلے مرحلے میں اپنے وسائل سے چھ ٹرینیں جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید چھ ٹرینیں چلانے کے لیے 6.

6 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے فوری طور پر فنڈز کے اجرا کی بھی ہدایت دی۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس میں وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکرٹری آغا واصف اور سیکرٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن شریک ہوئے۔ وفاقی وزیر کے وفد میں سیکرٹری ریلوے مظہر علی شاہ، جنرل منیجر ریلوے عامر بلوچ اور دیگر اعلیٰ افسران شامل تھے۔ اجلاس کا مرکزی نکتہ ریل پر مبنی مضافاتی ٹرانسپورٹیشن پلان تھا۔ یہ منصوبہ تقریباً 3 کروڑ 70 لاکھ افراد کو سہولت فراہم کرے گا جو سندھ کی مجموعی آبادی کا 67 فیصد بنتے ہیں۔ منصوبے کے تحت چھ اہم روٹس پر 858 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کی بحالی کی تجویز دی گئی ہے، جن میں کوٹری–دادو (181 کلومیٹر)، دادو–لاڑکانہ–حبیب کوٹ (166 کلومیٹر)، حیدرآباد–میرپورخاص–ماروی (200 کلومیٹر)، روہڑی–جیکب آباد (87 کلومیٹر)، جیکب آباد–کشمور کالونی (124 کلومیٹر) اور حیدرآباد–بدین (100 کلومیٹر)شامل ہیں۔

کراچی: وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سے وزیر ریلوے حنیف عباسی کی ملاقات کے دوران سندھ میں ریلوے نظام میں جدت سے متعلق گفتگو ہورہی ہے

سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: علی شاہ

پڑھیں:

خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔

(جاری ہے)

انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد