عوام میں رمضان پیکج کی امدادی رقوم کی فراہمی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ہی کی جائے: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عوام میں رمضان پیکج کی امدادی رقوم کی فراہمی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ہی کی جائے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت مجوزہ رمضان اور گزشتہ سال رمضان پیکج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن پر جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیراعظم نے گزشتہ سال رمضان پیکج کی شفافیت پر آڈٹ ادارے کی رپورٹ کی تعریف کی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال سے وفاقی حکومت نے کم نرخوں پر اشیائے خوردونوش کی فراہمی کے لیے شفاف نظام ترتیب دیا۔ مالی بےضابطگیوں، بدنظمی اور استحصال کا رائج نظام حکومت نے شفاف نظام میں تبدیل کردیا۔
انہوں نے کہا کہ عوام میں رمضان پیکج کی امدادی رقوم کی فراہمی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ہی کی جائے۔ عوام کی عزت و تکریم مجروح نہ ہو۔
شہباز شریف نے کہا کہ رمضان کے لیے پچھلے سال سے بھی زیادہ مؤثر اور سود مند پیکج مرتب کیا جائے، یوٹیلٹی اسٹورز میں بدعنوانی کی وجہ سے مستحق افراد اپنے حق سے محروم تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کی رمضان پیکج کی تقسیم میں شمولیت سے کیش لیس اکانومی کو فروغ ملے گا۔ مؤثر نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور منظم مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رمضان پیکج کی کی فراہمی
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔