ملک کو نفرت کی نہیں، مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے، علامہ راجہ ناصر عباس
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے نائب صدر علامہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ ملک کو موجودہ سیاسی اور آئینی دلدل سے نکالنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا، کیونکہ پاکستان مزید محاذ آرائی اور انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ ناصر عباس نے کہا کہ پاکستان اس وقت جس تباہ کن صورتحال سے گزر رہا ہے، اس سے نکلنے کا واحد راستہ اجتماعی دانش اور مکالمہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں، اختلافات ضرور ہیں، مگر اختلافات کی بنیاد پر ملک کو مزید نقصان کی طرف نہیں دھکیلا جانا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’’پانچ بڑوں‘‘ کے بیٹھنے کی تجویز کو محدود دائرے میں نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق تمام سیاسی جماعتیں، مختلف مکاتب فکر کی قیادت، صوبائی نمائندے، اور آئینی اداروں سے وابستہ افراد بھی اس عمل کا حصہ ہوں تاکہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالا جا سکے۔
علامہ ناصر عباس نے پارلیمنٹ کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ ہی وہ فورم ہے جہاں کھل کر بحث ہونی چاہیے اور اجتماعی فیصلوں کے ذریعے پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف مخصوص مواقع پر پارلیمنٹ میں آنا اور پھر چلے جانا مسائل کا حل نہیں، مستقل اور سنجیدہ مکالمہ ضروری ہے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس تحریک کا مقصد تصادم نہیں بلکہ آئینی، قانونی اور پُرامن جدوجہد کے ذریعے عوام کے حقوق کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی چاہتے ہیں کہ خدا نخواستہ ملک مزید تباہی کی طرف جائے۔
علامہ ناصر عباس نے اقتدار میں موجود قوتوں کو زیادہ ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے کہا کہ اصل ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ برداشت، وسعتِ نظر اور شائستگی کے ساتھ سیاسی عمل کو آگے بڑھائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور لوگ خوف کے بغیر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ اگر جدوجہد مثبت، قانونی اور آئینی دائرے میں رہ کر کی جائے تو چاہے یہ راستہ طویل ہی کیوں نہ ہو، بالآخر کامیابی عوام کے حق میں ہی ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تحریک تحفظ آئین پاکستان علامہ ناصر عباس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تحریک تحفظ ا ئین پاکستان علامہ ناصر عباس
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔