اوپن اے آئی نے صارفین کے لیے ’چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ‘ سروس متعارف کر دی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سان فرانسسکو: مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے صحت اور فٹنس کے شعبے میں ایک نیا انقلاب برپا کرتے ہوئے اپنی جدید سہولت ’’چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ‘‘ متعارف کرائی ہے، جو صارفین کو ان کے طبی ریکارڈز اور فٹنس ایپس کے ساتھ محفوظ اور مؤثر انداز میں مربوط ہونے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
اوپن اے آئی کی جانب سے جاری بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ صارفین کو اپنی صحت کے بارے میں بہتر سمجھ پیدا کرنے اور روزمرہ کے فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرے گا، لیکن یہ کسی بھی صورت میں طبی تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں ہے۔
کمپنی کے مطابق ہر ہفتے تقریباً 23 کروڑ افراد صحت اور فٹنس سے متعلق سوالات کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرتے ہیں، جو اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو واضح کرتا ہے، اس منفرد فیچر کی تیاری میں 60 ممالک کے 260 سے زائد ماہر ڈاکٹروں کی قریبی رہنمائی شامل رہی ہے تاکہ صارفین کو صحت کے فیصلوں میں زیادہ معلوماتی اور ذاتی نوعیت کی معاونت فراہم کی جا سکے۔
اس جدید سہولت کا مقصد صرف صارفین کے روزمرہ کے صحت کے امور میں رہنمائی فراہم کرنا ہے، جیسے کہ ٹیسٹ رپورٹس کی وضاحت، ڈاکٹر کے پاس جانے کی تیاری، غذا اور ورزش کے مشورے، یا انشورنس سے متعلق معلومات کی جانچ پڑتال۔
اوپن اے آئی نے واضح کیا ہے کہ یہ فیچر کسی بھی قسم کے علاج یا تشخیص کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، اور صارفین کو ہمیشہ پیشہ ورانہ طبی مشورے کی ضرورت ہوگی۔
صحت کے حساس ڈیٹا کی حفاظت کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ چیٹس کو 30 دن بعد حذف کیا جا سکتا ہے، تمام چیٹس اور فائلز ڈیفالٹ کے طور پر انکرپٹڈ رہتی ہیں، ذاتی معلومات محفوظ نہیں کی جاتی، اور صارفین ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن (MFA) کا آپشن بھی فعال کر سکتے ہیں تاکہ سیکیورٹی مزید مضبوط ہو۔
ابتدائی طور پر ’’چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ‘‘ کا تجربہ محدود گروپ کے صارفین کے لیے دستیاب ہوگا تاکہ فیچر کی کارکردگی اور معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
اوپن اے آئی نے بتایا کہ چیٹ جی پی ٹی کے فری، جی پی ٹی گو، پلس اور پرو صارفین اس سہولت کے اہل ہیں، تاہم یورپی اکنامک ایریا، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ کے صارفین اس مرحلے میں شامل نہیں ہوں گے۔
یہ اقدام واضح طور پر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال میں محتاط لیکن فعال رویہ اختیار کرنا ضروری ہے، تاکہ صارفین اپنی صحت کا مؤثر انتظام کر سکیں، بغیر اس کے کہ وہ علاج یا تشخیص کے لیے مکمل طور پر اے آئی پر انحصار کریں۔ اوپن اے آئی کا یہ فیچر مستقبل میں صحت کے شعبے میں ٹیکنالوجی اور انسانی فہم کے درمیان ایک محفوظ اور مؤثر پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اوپن اے آئی صارفین کو صحت کے کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
فائل فوٹوآزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔
آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔