رمضان پیکج کی فراہمی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ہوگی: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی حکومت کے مجوزہ رمضان اور پچھلے سال رمضان پیکج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیراعظم نے تمام متعلقہ اداروں اور وزارتوں کی پچھلے سال رمضان پیکج کی شفافیت پر مستند آڈٹ ادارے کی طرف سے رپورٹ پر ستائش کی۔وزیراعظم نے کہا کہ پچھلے سال سے وفاقی حکومت نے غریب عوام کو رمضان پیکج کے ذریعے ارزاں نرخوں پر اشیائے خورد و نوش کی فراہمی کے لیے شفاف نظام ترتیب دیا ہے.
واضح رہے کہ رمضان پیکج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن میں کسی قسم کی مالی بدعنوانی یا سنگین انتظامی بدنظمی کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: رمضان پیکج کی پچھلے سال کے ذریعے کے لیے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔