چین کی دوسری ’اے آئی ٹائیگر‘ کمپنی کی ہانگ کانگ اسٹاک مارکیٹ میں شاندار اینٹری
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
چین کی مصنوعی ذہانت کی ابھرتی ہوئی کمپنی اور شنگھائی میں قائم اے آئی یونیکورن ’منی میکس‘ نے ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ توڑ آغاز کرتے ہوئے اپنے پہلے ہی دن شیئرز کی قیمت میں 78 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔
اس شاندار کارکردگی نے چین کی ایک اور اے آئی کمپنی Zhipu AI کو بھی پیچھے چھوڑ دیا جس کے بعد سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد نے منی میکس کے شیئرز خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
منی میکس کی جانب سے کی گئی ابتدائی عوامی پیشکش کے ذریعے کمپنی نے مبینہ طور پر 4.
ٹیکنالوجی ریسرچ فرم اومڈیا کے چیف اینالسٹ لیان جے سو کے مطابق منی میکس کی صارفین پر مرکوز حکمت عملی نے ایسے سرمایہ کاروں کو زیادہ متوجہ کیا جو تیز رفتار ترقی کے مواقع تلاش کر رہے تھے جبکہ Zhipu AI کا ادارہ جاتی اور سرکاری اداروں پر مبنی ماڈل نسبتاً مستحکم مگر کم پُرجوش سمجھا گیا۔
منی میکس کی بنیاد سنہ 2022 کے اوائل میں سابق سینس ٹائم ایگزیکٹو یان جنجیے نے رکھی۔ یہ کمپنی ایسے جدید مصنوعی ذہانت ماڈلز تیار کرتی ہے جو تحریر، تصاویر، ویڈیوز اور موسیقی کو بیک وقت پروسیس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کمپنی کی نمایاں ایپلیکیشنز میں Hailuo AI شامل ہے جو ویڈیو جنریشن کا جدید ٹول ہے جبکہ Talkie نامی ایپ صارفین کو اے آئی سے چلنے والے ڈیجیٹل کرداروں کے ساتھ بات چیت کا موقع فراہم کرتی ہے۔
اگرچہ منی میکس اس وقت اپنے ابتدائی ترقیاتی مرحلے میں ہے لیکن آئندہ چند سال اس کی اے آئی انڈسٹری میں مستقل کامیابی کا تعین کریں گے۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق Zhipu AI کواوپن اے آئی کی جانب سے ان چینی اے آئی کمپنیوں میں شامل کیا گیا ہے جو سرکاری معاہدوں میں نمایاں پیشرفت کر رہی ہیں۔ Zhipu AI نے اپنے IPO کے ذریعے 4.35 ارب ہانگ کانگ ڈالر اکٹھے کیے اور اس وقت کمپنی کی مالیت تقریباً 7.4 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔
ادھر سیمی کنڈکٹر کے شعبے سے وابستہ OmniVision Integrated Circuits اور GigaDevice Semiconductor بھی ثانوی پیشکشوں کے بعد آئندہ ہفتے ہانگ کانگ میں ٹریڈنگ شروع کرنے جا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق جہاں سنہ 2025 کا سال اے آئی چپ بنانے والی کمپنیوں کے نام رہا، وہیں منی میکس کی کامیاب انٹری اس بات کا ثبوت ہے کہ اب مارکیٹ ویڈیو اور گیمنگ جیسے شعبوں میں اے آئی کامیابیوں کو بھرپور انداز میں سراہنے کے لیے تیار ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چین چینی کمپنی اے آئی ٹائیگر ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چین ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج منی میکس کی ہانگ کانگ اے آئی
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔