ڈیجیٹل سرمایہ کاری، پاکستان ورچوئل ایسٹس اتھارٹی، یو اے ای کا اشتراک
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) پاکستان میں ڈیجیٹل فنانس کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وزیراعظم آفس میں پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی اور متحدہ عرب امارات کے وفد کے درمیان اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈیماک گروپ اور اس کے ریگولیٹڈ پلیٹ فارم پرائپکو نے شرکت کی۔
اجلاس کی صدارت چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے کی، جبکہ متحدہ عرب امارات کے سفیر سالم محمد الزعابی نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اجلاس کے دوران رئیل اسٹیٹ، سرکاری اثاثوں اور قرض جاتی آلات کی ٹوکنائزیشن پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اس موقع پر بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان میں ٹوکنائزیشن کو قومی معاشی محرک کے طور پر تصور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹوکنائزیشن کے ذریعے غیر فعال اثاثوں کو قابلِ سرمایہ کاری بنانے میں اہم پیش رفت ممکن ہوگی، جبکہ اس سے رئیل اسٹیٹ اور دیگر اثاثوں میں شفاف اور محفوظ بین الاقوامی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو سکے گی۔
اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ڈیجیٹل فنانس کے شعبے میں جدت اور اصلاحات کے باعث عالمی ادارے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔