وزیراعظم کی رمضان المبارک میں عوام دوست پیکیج تیار کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان المبارک میں عوام دوست امدادی پیکیج تیار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت رمضان المبارک کے لیے مجوزہ وفاقی رمضان پیکیج اور گزشتہ سال کے پیکیج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم نے آنے والے رمضان کے لیے عوام بالخصوص غریب اور سفید پوش طبقے کے لیے زیادہ مؤثر، شفاف اور سودمند پیکیج تیار کرنے کی واضح ہدایات جاری کیں۔
اجلاس میں وزیراعظم نے گزشتہ سال کے رمضان پیکیج پر مستند عالمی آڈٹ ادارے کی جانب سے دی گئی رپورٹ کو سراہتے ہوئے کہا کہ شفافیت اور مؤثر نگرانی حکومت کی پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ گزشتہ سال وفاقی حکومت نے رمضان پیکیج کے ذریعے غریب عوام کو ارزاں نرخوں پر اشیائے خور و نوش کی فراہمی کے لیے ایک نیا اور شفاف نظام متعارف کرایا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے مالی بے ضابطگیوں، بدنظمی اور مستحق افراد کے استحصال کا جو نظام چلا آ رہا تھا، اسے موجودہ حکومت نے مرحلہ وار شفاف اور منظم ڈھانچے میں تبدیل کیا ہے، جس سے حقیقی مستحقین کو فائدہ پہنچا۔
وزیراعظم نے تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت دی کہ آئندہ رمضان المبارک کے لیے پچھلے سال سے بھی زیادہ بہتر، جامع اور مؤثر پیکیج تیار کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ غریب اور سفید پوش خاندانوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یوٹیلٹی اسٹورز میں بدعنوانی کے باعث ماضی میں مستحق افراد اپنے حق سے محروم رہے، اس لیے حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ سماجی تحفظ اور مالی معاونت کے تمام اقدامات مکمل شفافیت کے ساتھ کیے جائیں۔
اجلاس میں وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رمضان پیکیج کے تحت امدادی رقوم کی تقسیم ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جائے تاکہ مستحق افراد کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو اور انہیں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے رقوم کی فراہمی نہ صرف شفافیت کو یقینی بنائے گی بلکہ کیش لیس معیشت کے فروغ میں بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ وزیراعظم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی شمولیت کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے رمضان پیکیج کی تقسیم مزید مؤثر ہو سکے گی۔
وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو خصوصی ہدایت دی کہ امدادی رقوم کے دائرہ کار کو زیادہ سے زیادہ وسیع کیا جائے تاکہ زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے جامع حکمت عملی، عملی اقدامات اور سفارشات جلد پیش کرنے کی ہدایت دی، جبکہ مؤثر نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور منظم مانیٹرنگ سسٹم وضع کرنے پر بھی زور دیا۔
اجلاس میں دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال رمضان پیکیج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن عالمی شہرت یافتہ آڈٹ فرم نے کی، جس نے حکومتی پیکیج کو شفاف اور مؤثر قرار دیا۔ بریفنگ میں یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سوشل پروٹیکشن والٹ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے مستحق افراد کو مفت سمز فراہم کی جا رہی ہیں، اور مارچ 2026 سے تمام امدادی رقوم انہی سمز کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر تقسیم کی جائیں گی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر تخفیف غربت سید عمران احمد شاہ، وفاقی وزیر قومی تحفظ خوراک رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، چیئرمین نادرا، چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل رمضان المبارک رمضان پیکیج مستحق افراد پیکیج تیار وفاقی وزیر گزشتہ سال اجلاس میں کے ذریعے انہوں نے کرنے کی کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘