عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت تک حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے: علی ظفر
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ جب تک عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جاتی، حکومت کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوسکتی۔انہوں نے یہ بات لاہور میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے وفد کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہی، جو اپوزیشن کی اسٹریٹ موومنٹ کے تحت سیاسی اور سماجی اجتماعات کے لیے شہر کے تین روزہ دورے پر ہے۔اپوزیشن اتحاد نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ ٹی ٹی اے پی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس جمعے کو ایڈووکیٹ چوہدری غلام عباس کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجتماع میں پہنچے، جہاں صحافیوں، سیاسی رہنماؤں اور پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کے وفد کو لاہور آمد پر خوش آمدید کہا۔انہوں نے ٹی ٹی اے پی پر زور دیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لیے دباؤ ڈالے، جن سے حالیہ ہفتوں میں کسی کو ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت دیے بغیر کوئی بات چیت یا مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے۔ بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کو لاہور میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح پاکستان کی خودمختاری کا تحفظ ہے اور اسی تناظر میں عمران خان کی رہائی وقت کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی جو پاکستان کے مستقبل کو نقصان پہنچائے یا ملکی خودمختاری کے خلاف ہو۔بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کی قیادت کا دورے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہاں پہنچنے میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بیرسٹر علی ظفر نے نے ٹی ٹی اے پی کرتے ہوئے کی اجازت انہوں نے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔