بینظیر بھٹو شہید ہیومن ریسورس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ کے تحت ٹریننگ فیز سولہ کی افتتاحی تقریب ضلع ملیر میں واقع ای-کمپلیکس ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ میں منعقد ہوئی۔ جس کی مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر برائے ترقیِ نسواں محترمہ شاہینہ شیر علی تھیں، تقریب میں بی بی ایس ایچ آر آر ڈی بی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جہانزیب کمال، پاکستان پیپلز پارٹی ضلع ملیر کے ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری آغا طارق پٹھان، ڈپٹی ڈائریکٹر ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اکبر جوکھیو سمیت دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی نے کہا کہ حکومت سندھ نوجوانوں خصوصاً خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کو ترجیح دے رہی ہے اور ای-کمپلیکس سے تربیت مکمل کرنے والی طالبات کو آسان شرائط پر بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنا ذاتی کاروبار شروع کر سکیں۔جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر جہانزیب کمال نے کہا کہ بی بی ایس ایچ آر آر ڈی بی سندھ بھر میں ہزاروں نوجوانوں کو ہنرمند بنا کر انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔ مقررین نے فنی و تکنیکی تعلیم کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اور تقریب کے اختتام پر ای-کمپلیکس ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کے ایڈمنسٹریٹر زاہد اقبال بھٹہ نے معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے

سکھر:

سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔

دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔

سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔

سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل