پمز اسپتال میں پھیپھڑوں کی جگہ جگر کی بائیوپسی اور خاتون کی ہلاکت کے معاملے پر اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
پھیپھڑوں کی جگہ جگر کی بائیوپسی اور خاتون کی ہلاکت کے معاملے پر پمز اسپتال کی انتظامیہ نے دو رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی۔
فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا نوٹیفکیشن ڈپٹی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے جاری کر دیا۔
ایچ او ڈی اون کالوجی ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر قاسم محمود بٹر کمیٹی کے چیئرمین مقرر کیے گئے جبکہ ڈائریکٹر ایمرجنسی ڈاکٹر شرجیل ظہیر کمیٹی کے ممبر نامزد کیے گئے۔
کمیٹی پمز اسپتال کی پلمونولوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈاکٹرز اور اسٹاف کی مبینہ غفلت کی تحقیقات کرے گی۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی مکمل تحقیقاتی رپورٹ اور تجاویز ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پمز اسپتال کو پیش کرے گی۔
پھیپھڑوں کے بجائے جگر کی بائیوپسی کے بعد خاتون کی ہلاکت؛ آئی ایچ آر اے کا پمز اسپتال سے جواب طلب
پمز اسپتال میں ڈاکٹروں کی سنگین مبینہ غفلت، پھیپھڑوں کے بجائے جگر کی بائیوپسی، مریضہ جاں بحق
نوٹیفکیشن کے مطابق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی 24 گھنٹے میں مکمل تحقیقات کرنے کی پابند ہوگی۔
پمز اسپتال کے ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت پر آئی ایچ آر اے نے پہلے ہی تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے۔ متوفی مریضہ عابدہ پروین کے بیٹے نے اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کو درخواست دائر کی تھی۔
آئی ایچ آر اے نے پمز اسپتال کے ڈاکٹر محمد اسرار سے 7 روز میں جواب طلب کر رکھا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی جگر کی بائیوپسی پمز اسپتال
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔