قومی ڈائیلاگ کانفرنس کے انعقاد پر حکومتی رد عمل کیا رہا؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
قومی ڈائیلاگ کانفرنس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے عمل کو مضبوط بنانے کے لیے اہم تجاویز پیش کی گئی ہیں، صدر مملکت آصف زرداری اور مسلم لیگ نون کے صدر نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کی مشاورت سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے سمیت مختلف تجاویز دی گئی ہیں، ان تجاویز پر حکومتی رہنماؤں کا موقف بھی سامنے آ گیا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کا مستقل اختیار دے رکھا ہے، اگر اپوزیشن بات کرنے کے لیے آگے آئے گی تو میں وزیراعظم سے درخواست کروں گا کہ مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر زرداری، نواز شریف اور وزیراعظم کی مشاورت سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جائے، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی تجویز
’اسحاق ڈار کی سربراہی میں کمیٹی ابھی بھی موجود ہے، لیکن اپوزیشن کبھی مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں رہی، میڈیا پر ان کے بیانات سنے کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں اس کے بعد میں نے ان کو مذاکرات کی دعوت دی لیکن انہوں نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔‘
First Conference arranged by NDC has received lead coverage on all news media, the importance of Dialogue is now well understood the credit for this huge success goes to members and organisers of NDC.
— National Dialogue Committee (@NDCOfficialACC) January 8, 2026
ایاز صادق نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی سے مذاکرات کے لیے قومی اسمبلی یا سینیٹ کے اراکین ہی آئیں گے تو نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے جو ارکان ہیں اگر تو وہ رکن قومی اسمبلی ہیں تو وہ مذاکرات کا حصہ ہوں گے۔
’۔۔۔لیکن اگر کوئی غیر منتخب نمائندہ مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو وہ حکومت سے براہ راست مذاکرات کر لے میری اس میں مداخلت کی ضرورت نہیں ہے، میری ترجیح اراکین اسمبلی ہے۔‘
مزید پڑھیں:فواد چوہدری و دیگر کی سیاسی مذاکرات کے لیے کوششیں، پی ٹی آئی نے ’نمائشی ڈائیلاگ کمیٹی‘ قرار دیدیا
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ اپوزیشن رہنما مذاکرات کی بات ٹاک شوز میں تو کرتے ہیں لیکن کبھی سنجیدہ طور پر مذاکرات کا اغاز نہیں کیا اگر اب وہ دوبارہ مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ ان سے بات کریں۔
ایاز صادق نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ مذاکرات کی پہلی ایک یا دو نشستوں میں کچھ نہ ہو لیکن مذاکرات کے نتیجے میں مسائل کا حل ہوگا۔
Thread – National Dialogue Committee meeting concluded in Islamabad on January 7, 2026. The meeting was attained all the representatives of Pakistani political parties and various stakeholders. The meeting focused on Pakistan’s political instability and economic challenges 1️⃣ pic.twitter.com/SsAw7lLbr0
— Jawad Yousafzai (@JawadYousufxai) January 7, 2026
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ جس طرح کا اعلامیہ قومی ڈائیلاگ کانفرنس نے جاری کیا ہے اس طرح کے اعلامیے تو ہم متعدد بار جاری کرتے ہیں، جس طرح اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یاسمین راشد اور بشریٰ بی بی کو رہا کیا جائے تو وہ تو ہمارے اختیار میں نہیں ہے ان کو تو عدالتوں سے سزا ہوئی ہے۔
’ہم یہ کہتے ہیں کہ مل کر بیٹھ جائیں اور اس پر بات کریں کہ کس طرح ملک میں امن ہو سکتا ہے کس طرح دہشتگردی ختم ہو سکتی ہے، ایک طرف تو اپوزیشن ڈائیلاگ کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف اپوزیشن رہنماؤں کے بیانات ہیں کہ جو مذاکرات کرے گا وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔‘
مزید پڑھیں: پاکستان کو سیاسی و معاشی استحکام کے لیے قومی ڈائیلاگ اور میثاق کی ضرورت ہے، اعظم نذیر تارڑ
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ جب تک عمران خان سے ملاقات نہیں ہو جاتی مذاکرات نہیں ہوں گے حالانکہ ملاقاتوں پر تو پابندی اب لگی ہے اس سے پہلے کئی مہینوں تک رہنماؤں اور عمران خان کی بہنوں کی عمران خان سے ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔
’اس وقت کیوں مذاکرات کی بات نہیں کی گئی، مذاکرات کی دعوت حکومت کی جانب سے تو پہلے بھی دی گئی تھی جو مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پی ٹی ائی نے خود نامزد کیے ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ مذاکرات کر لیں لیکن پی ٹی آئی مذاکرات نہیں کرتی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپیکر ایاز صادق پی ٹی آئی دہشتگردی ڈائیلاگ قومی اسمبلی قومی ڈائیلاگ کانفرنس مصدق ملک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیکر ایاز صادق پی ٹی ا ئی دہشتگردی ڈائیلاگ قومی اسمبلی قومی ڈائیلاگ کانفرنس مصدق ملک قومی ڈائیلاگ کانفرنس ایاز صادق نے کہا مذاکرات کے لیے قومی اسمبلی مذاکرات کی نے کہا کہ کی بات
پڑھیں:
لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
ترجمان اتحاد اُمت فورم کے مطابق کانفرنس کے دوران ’’استقبال محرم‘‘ کے عنوان سے ایک نشست شامل کی گئی ہے، جس میں ملک بھر سے ماتمی سنگتوں کو دعوت دی گئی ہے، جو استقبال محرم کی اس نشست میں ماتم اور نوحہ خوانی کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور میں 13 جون کو مینار پاکستان گراؤنڈ میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ترجمان اتحاد اُمت فورم کے مطابق کانفرنس کے دوران ’’استقبال محرم‘‘ کے عنوان سے ایک نشست شامل کی گئی ہے، جس میں ملک بھر سے ماتمی سنگتوں کو دعوت دی گئی ہے، جو استقبال محرم کی اس نشست میں ماتم اور نوحہ خوانی کریں گے۔ ترجمان کے مطابق ملک بھر سے معروف نوحہ خواں حضرات کو بھی خصوصی طور پر دعوت دی گئی ہے جبکہ ماتمی سنگتیں بھی دُختر رسولؑ کو پرسہ دیں گی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے باقاعدہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو نوحہ خواں حضرات اور ماتمی انجمنوں کے سالاروں سے رابطے کر رہی ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ماتمی سنگتوں کے سالاروں اور نوحہ خواں حضرات نے اظہار تشکر کیا ہے کہ انہیں بھی اس عظیم اجتماع میں شرکت کا موقع دیا جا رہا ہے۔ کانفرنس میں نوحہ خواں حضرات نوحہ خوانی کیساتھ شہیدِ امت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو بھی اپنے اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کریں گے۔