وی ایکسکلوسیو: فیض حمید کا منصوبہ قبائلی علاقوں کو طالبان کے حوالے کرنا تھا، میاں افتخار حسین
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینیئر سیاست دان میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ عمران خان دور میں فیض حمید کا منصوبہ قبائلی علاقوں کو طالبان کے حوالے کرنا تھا۔
وی نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ فیض حمید نے قبائلی علاقوں کو طالبان کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جبکہ عمران خان دن رات جنرل باجوہ کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ عمران خان کے دور میں جو کچھ ہوا وہ سب کو معلوم ہے کہ کون کس کو لا کر آباد کر رہا تھا۔
اپنے انٹرویو میں میاں افتخار حسین نے صوبے کی امن و امان کی صورتحال، سیاسی معاملات اور افغان امور پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 3 بار مسلسل برسراقتدار رہنے کے باوجود پاکستان تحریک انصاف امن و امان بہتر بنانے اور دہشتگردی کے خاتمے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اس مسئلے کے خاتمے کے لیے اس کے پاس کوئی بہتر منصوبہ بھی نہیں ہے۔
’دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہیے‘میاں افتخار حسین نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور اسے جڑ سے ختم کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سنہ 2014 میں آرمی پبلک اسکول حملے کے بعد نیشنل ایکشن پلان میں آپریشن کی اجازت دی گئی تھی مگر اب اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہو رہا۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ فیصلے بھی ہیں، اجازت بھی لیکن سب فائلوں میں بند ہیں، کوئی باہر نہیں آ رہا۔
انہوں نے کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے ہر وہ قدم اٹھانا چاہیے جس کی ضرورت ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں ضرورت ہو مذاکرات کیے جائیں اور جہاں ضرورت ہو وہاں آپریشن کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئی حکومت اونرشپ لینے کو تیار نہیں جبکہ اے این پی نے اپنے دور اقتدار میں مالاکنڈ میں مذاکرات بھی کیے اور آپریشن بھی جس کے نتیجے میں وہاں آج بھی امن ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فیض حمید نے بہت کوشش کی لیکن وہاں امن خراب نہیں کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ اب بھی پنجاب میں کالعدم تنظیمیں سرگرم ہیں ان کے خلاف آپریشن سے آغاز ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ سب کے خلاف آپریشن ہونا چاہیے، جڑ سے خاتمہ اس کے بغیر ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن کا تعلق افغانستان سے ہے اور دونوں جانب قیام امن کے لیے کوششیں ہونی چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی فرنٹ لائن پر دہشتگردی کے خلاف کھڑی رہی ہے اور آج بھی نشانہ بن رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہی ہیں مگر حقیقی معنوں میں اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ دہشتگردی آج یا کل کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ 45 سال سے زائد عرصے سے درپیش ہے جو بنیادی طور پر ضیاء الحق کی پیداوار ہے۔
’ہمارے نصاب میں اب بھی ‘ب’ بندوق پڑھایا جاتا ہے‘انہوں نے کہا کہ ضیاء الحق کے دور میں روس امریکا جنگ میں پاکستان کود پڑا اور تب سے اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ روس امریکہ کی لڑائی میں اسلام اور جہاد کو شامل کیا گیا اور نصاب کی کتابوں میں بھی یہ سب داخل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اب بھی نصاب کی کتابوں میں ’ب‘ سے بندوق پڑھایا جاتا ہے جبکہ باقی صوبوں میں ’ب‘ سے بکری پڑھائی جاتی ہے حتیٰ کہ ریاضی میں جمع اور تقسیم کے سوالات میں بھی بندوقوں کو جمع یا تقسیم کیا جاتا ہے۔
’پی ٹی آئی کے پاس قیام امن کے لیے کوئی پلان نہیں‘اے این پی کے مرکزی رہنما نے پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ تیسری بار ہے کہ صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے لیکن امن و امان کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی اضلاع میں حکومت خود سرکاری اہلکاروں کو رات کے وقت باہر نہ نکلنے کی ہدایات دے رہی ہے۔
میاں افتخار حسین نے استفسار کیا کہ اگر سرکاری لوگ ہی رات کو نہیں نکلیں گے تو پھر حکومت کس کی ہوگی؟
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے امن و امان پر آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا اور سب نے تجاویز دیں مگر عملی طور پر کچھ نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حکومت کے پاس دہشتگردی کم کرنے کا کوئی واضح پلان نہیں اور انہیں خود بھی نہیں معلوم کہ کیا کرنا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا یہ دھاندلی زدہ پی ٹی آئی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
میاں افتخار حسین نے خیبر پختونخوا حکومت کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ہار جائیں اور صرف پی ٹی آئی ہی کامیاب ہو۔
’خیبرپختونخوا حکومت دھاندلی کے نتیجے میں آئی‘انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ حکومت دھاندلی کے نتیجے میں آئی ہے اور تصادم کی سیاست پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیسری بار حکومت کے باوجود پی ٹی آئی عوام کو ریلیف دینے اور امن قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ یہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے خواہ امن ہو، بے روزگاری ہو یا معیشت سب کچھ تباہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی توجہ اڈیالہ تک محدود ہے اور حکومت عمران خان کی رہائی کے لیے سرگرم ہے جبکہ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان جیل میں ہیں تو آخرکار رہا ہو جائیں گے لہٰذا پی ٹی آئی کو حکومتی امور پر توجہ دینی چاہیے اور سیاسی اختلافات ایک طرف رکھ کر وفاق کے ساتھ ٹیبل ٹاک کرنی چاہیے۔ میاں افتخار حسین کی مزید گفتگو سنیے خبر میں شامل ویڈیو میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
طالبان کی پاکستان میں آبادکاری عوامی نیشنل پارٹی فیض حمید فیض حمید کے منصوبے میاں افتخار حسین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: طالبان کی پاکستان میں ا بادکاری عوامی نیشنل پارٹی فیض حمید فیض حمید کے منصوبے میاں افتخار حسین ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ کہ عمران خان پی ٹی آئی فیض حمید ہے اور کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔