پنجاب میں انسانی ترقی کا فرق بے نقاب؛ شہری سہولیات کے باوجود لاہور آٹھویں پوزیشن پر
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
سٹی 42: پنجاب میں انسانی ترقی کا فرق بے نقاب ہوگیا۔ انسانی ترقی پر پنجاب کے اضلاع میں پنجاب اسٹیٹیجی ٹیم کی رینکنگ سامنے آ گئی۔
رپورٹ کے مطابق راولپنڈی انسانی ترقی میں پہلے نمبر پر، لاہور آٹھویں پوزیشن پر موجود ہے ۔شہری سہولیات کے باوجود لاہور انسانی ترقی میں آٹھویں نمبر پر رہا جبکہ جہلم دوسرے ، گجرات تیسرے ، اور چکوال چوتھے نمبر پر رہا ۔
فیصل آباد پانچویں نمبر ، سیالکوٹ 6 اور اٹک ساتویں نمبر پر رہا ۔
لاہور میں 20 سال بعد بسنت، شہر کو تین زونز میں تقسیم کر کے سکیورٹی انتظامات سخت
خوشحال اضلاع اور پسماندہ علاقوں کے درمیان خلیج مزید گہری ہوگئی ۔جنوبی پنجاب کے اضلاع بدستور انسانی ترقی میں سب سے پیچھے ہے ۔
لودھراں، راجن پور اور مظفرگڑھ انتہائی کم انسانی ترقی والے اضلاع قرار دیے گئے ۔ تعلیم، صحت اور آمدن میں عدم توازن، اور صوبائی پالیسیوں کی ناکامی وجہ قرار دی گئی ۔
انسانی ترقی کی رینکنگ صحت، تعلیم اور فی کس آمدن کے اشاریوں کی بنیاد پر کی گئی۔تینوں پیمانوں کے مجموعی اسکور سے اضلاع کی درجہ بندی طے کی گئی۔
پنجاب کے اسکولز 12 جنوری سے کھلیں گے، وزیر تعلیم نے افواہوں کی تردید کر دی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
سٹی 42: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا،
پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے کا اضافہ شہریوں نے قیمتوں میں اضافہ مسترد کردیا۔ حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کردیا۔
شہری کا کہنا تھا کہ کس قانون کے تحت حکومت روزانہ پیٹرول کی قیمت بڑھا رہی ہے۔کمی پیسوں میں کی جاتی ہے جبکہ اضافہ بھاری کیا جاتا ہے۔پیٹرول کی اضافی قیمت کی وجہ روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہوکررہ گئی ہے، ہیجانی سی کیفیت ہوتی ہے کہ آج حکومت پیٹرول کتنا مہنگا کرے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی روزانہ کی بنیاد پر اضافے نے نفسیاتی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے ۔ غریب شہریوں کو تنخواہ ماہانہ ملتی ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی سارے بجٹ کو ہلا دیتی ہے ۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور دیگر اخراجات میں بھی اضافہ ہوجاتاہے ۔ حکومت کو اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے ۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ