data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد(صباح نیوز)وفاقی وزیر برائے امورکشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام کی زیر صدارت دیامر بھاشا ڈیم کے متاثرین کی شکایات کے ازالے سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں متاثرین کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو ترجیحی بنیادوں پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ گلگت بلتستان کی ترقی اور اس کے عوام کی فلاح و بہبود وزیراعظم محمد شہباز شریف کی اولین ترجیحات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی ترقی، خوشحالی اور متاثرین کے مسائل کے حل کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں محمد معین وٹو (ویڈیو لنک کے ذریعے)، نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد (ویڈیو لنک کے ذریعے)، چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید ، سیکرٹری امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران ظفر حسن، چیف سیکرٹری گلگت بلتستان ابرار احمد مرزا، ایڈیشنل سیکرٹری امورِ کشمیر کامران رحمان خان اور جوائنٹ سیکرٹری جی بی کونسل سدھیر خٹک نے بھی شرکت کی۔

خبر ایجنسی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گلگت بلتستان وفاقی وزیر

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے