نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس، منصوبہ بندی کمیشن کو بااختیار بنانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اقتصادی اصلاحات سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں پاکستان کی اقتصادی اور ترقیاتی پالیسی سازی میں منصوبہ بندی کمیشن کے تاریخی اور مرکزی کردار پر روشنی ڈالی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ منصوبہ بندی کمیشن کو بااختیار بنایا جائے تاکہ وہ اسٹریٹجک پالیسی سازی، ترجیحات کے تعین اور سرکاری سرمایہ کاری کی مؤثر نگرانی کا کردار ادا کر سکے۔
یہ بھی پڑھیے: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے پاکستان کے سفیر برائے روس فیصل نياز ترمذی کی ملاقات
انہوں نے کہا کہ منصوبہ بندی کمیشن کو وزیرِاعظم کی براہِ راست قیادت میں ایک اعلیٰ ادارے کے طور پر کام کرنا چاہیے، جس کے تحت پالیسی و منصوبہ بندی ونگ اور علیحدہ ترقیاتی ونگ قائم کیے جائیں۔
سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ تمام بڑے اقتصادی فیصلے قومی اقتصادی حکمتِ عملی کے مطابق ہونے چاہئیں، جبکہ واضح کلیدی کارکردگی اشاریے (KPIs) مقرر کیے جائیں تاکہ حکومتی سطح پر جوابدہی، کارکردگی اور ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منصوبہ بندی کمیشن کو اقتصادی فیصلوں کے لیے مرکزی کلیئرنگ ہاؤس کا کردار ادا کرنا چاہیے، جو وزارتوں اور ڈویژنز کو پالیسی میں یکسانیت اور ترقیاتی منصوبہ بندی کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرے، ساتھ ہی پاکستان کی اقتصادی حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے پائیدار اصلاحات کی معاونت کرے۔
یہ بھی پڑھیے: 2025-26 کی پہلی سہ ماہی، ملکی معیشت کے لیے حوصلہ افزا کیوں؟ احسن قبال نے بتادیا
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے خزانہ، منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات، موسمیاتی تبدیلی، وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریونیو، وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، سیکریٹری منصوبہ بندی، قومی کوآرڈینیٹر ایس آئی ایف سی اور متعلقہ وزارتوں و ڈویژنز کے سینئر حکام نے شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار اقتصادیات معیشت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار اقتصادیات منصوبہ بندی کمیشن کو اسحاق ڈار کے لیے
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار