کوئٹہ میں 150 بیڈز پر مشتمل بڑا طبی منصوبہ مکمل: جدید ٹراما سینٹر فعال
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ: حکومتِ بلوچستان نے صحت کے شعبے میں اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے اسپنی روڈ پر 150 بیڈز پر مشتمل جدید ترین نیو ٹراما سینٹر قائم کر دیا ہے، جسے حادثات اور ہنگامی طبی صورتحال میں فوری اور معیاری علاج کی فراہمی کے لیے ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق یہ ٹراما سینٹر نہ صرف کوئٹہ بلکہ صوبے بھر کے مریضوں کے لیے جدید طبی سہولیات فراہم کرے گا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیو ٹراما سینٹر میں مختلف شعبہ جات کی اسپیشلٹی سروسز ایک ہی چھت تلے دستیاب ہوں گی۔ سینٹر میں 4 جدید آئی سی یوز قائم کیے گئے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 31 بیڈز موجود ہیں جب کہ ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 24 گھنٹے ماہر نیورو سرجن، آرتھوپیڈک سرجن اور جنرل سرجن اپنی خدمات انجام دیں گے۔ اس اقدام کا مقصد حادثات میں زخمی ہونے والے مریضوں کو بروقت اور مؤثر علاج فراہم کرنا ہے۔
ٹراما سینٹر میں جدید لیبارٹری سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں، جہاں سی ٹی اسکین، ایکسرے، الٹراساؤنڈ، موبائل ایکسرے اور موبائل وینٹی لیٹر جیسی جدید طبی سہولیات دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ 6 جدید آپریشن تھیٹرز قائم کیے گئے ہیں، جہاں بیک وقت 8 مریضوں کے آپریشن کی گنجائش موجود ہے جب کہ ادویات کی فراہمی کو بھی 24 گھنٹے یقینی بنایا گیا ہے۔
صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے نیو ٹراما سینٹر کا دورہ کیا اور مختلف شعبوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ حکومتِ بلوچستان کی عوام دوست پالیسیوں کا عملی ثبوت ہے اور صوبے میں صحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران ویکسینیشن پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور کسی منفی سروے رپورٹ کا نہ آنا اس کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔
وزیر صحت نے بتایا کہ گزشتہ 2 ماہ کے دوران صوبے میں 35 غیر فعال صحت مراکز کو دوبارہ فعال کیا گیا جب کہ 164 بنیادی صحت مراکز کو مکمل طور پر فنکشنل بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیو ٹراما سینٹر صوبے کا پہلا مکمل پیپر لیس مرکز ہے، جہاں مریض کی رجسٹریشن سے لے کر تشخیص، لیبارٹری، ریڈیالوجی، سرجری اور ادویات کی فراہمی تک تمام نظام کمپیوٹرائزڈ ہوگا۔
علاوہ ازیں صوبے کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں، جن کی لائیو مانیٹرنگ کوئٹہ کے مرکزی کنٹرول روم سے کی جائے گی جب کہ ادویات کی خریداری، استعمال اور فراہمی کا مکمل ریکارڈ بھی ڈیجیٹل نظام کے تحت محفوظ کیا جائے گا تاکہ شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیو ٹراما سینٹر کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔