حکومت کا زیادہ خسارے والے بجلی فیڈرز کی سولرپر منتقلی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) وفاقی حکومت نے زیادہ خسارے میں چلنے والے بجلی کے فیڈرز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک کے دور دراز علاقوں میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے سولرائزیشن اور بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحات کے حوالے سے اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا جہاں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ زیادہ خسارہ کرنے والے بجلی کے فیڈرز، کمیونٹی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے شمسی توانائی پر منتقل کیے جائیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس اقدام سے خسارے میں چلنے والے فیڈرز کے نقصانات میں کمی ہوگی اور ان علاقوں میں بجلی بلاتعطل میسر ہوگی، اسی طرح پیسکو اور کیسکو کے زیادہ نقصان میں چلنے والے فیڈرز میں فی الفور پائیلٹ پراجیکٹس کا اجرا کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پائلٹ پراجیکٹس کامیاب بنانے کے لیے علاقے کے منتخب نمائندوں سے مشاورت اور کمیونٹی کی شرکت یقینی بنائی جائے۔
اجلاس کو پیسکو اور کیسکو کے خسارے میں چلنے والے فیڈرز کو شمسی توانائی پر منتقلی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ ایسے فیڈرز کی شمسی توانائی پر منتقلی سے مقامی آبادی کے لیے ایک ماحول دوست، کم لاگت اور پائیدار مایئکرو گرڈ بن جائے گا اور مقامی آبادی، صوبائی اور وفاقی حکومتیں اس منصوبے میں شراکت دار ہوں گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اس منصوبے سے نہ صرف کم لاگت بجلی پیدا ہوگی بلکہ مستقبل میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے خسارے میں نمایاں کمی ہوگی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے منصوبے کی اصولی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پائلٹ پراجیکٹ پر فوراً کام شروع کیا جائے۔
وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر بجلی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے چیف سیکریٹریز کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سرکاری حکام شریک تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شمسی توانائی پر میں چلنے والے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔