اسٹبلشمنٹ کی تربیت ہی غلط، نوازشریف دانستہ غلط کر رہے ہیں، محمود خان اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
لاہور:(نیوزڈیسک)تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ نوازشریف صاحب میرے دوست ہیں لیکن آپ جانتے ہیں کہ آپ غلط کر رہے ہیں۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آپ گھر میں اپنی بی بی جان، بیٹی جان اور بچوں کا کیسے سامنا کرتے ہیں، آپ جانتے ہیں کہ آپ الیکشن ہارے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عوام نے کمال کر دیا کہ تحریک انصاف جس کے پاس اپنی جماعت کا انتخابی نشان بھی نہیں تھا اس کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ووٹ دیا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ نہ شہباز شریف سے جھگڑا ہے اور نہ نواز شریف سے جھگڑا ہے، ہماری فوج اور یہاں کے ایجنسیوں سے کوئی جھگڑا ہے۔ دنیا جہاں کی فوجیں جو کر رہی ہیں آپ اسی فریم میں رہیں تو آپ ہمارے بھائی ہیں۔ دنیا کو چلانے کے لیے ایک نظام دیا ہوا ہے اور سب کو اپنا اپنا کام کرنا چاہیے، نظام کو خراب نہ کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔