امریکی پالیسیاں تباہ کن؛ دنیا کو لٹیرے سے بچانا ہے؛ جرمن صدر
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
جرمنی (ویب ڈیسک) دنیا ایک ایسی جگہ بن جائے گی جہاں طاقتور ممالک کمزور ریاستوں کو اپنی مرضی کے تابع کرلیں گے۔طاقت ور ممالک چھوٹے ممالک کو اپنے تابع بنالیں گے؛ جرمن صدر ٹرمپ پر برس پڑے۔جرمنی کے صدر فرینک والٹر اسٹین مائر نے کہا کہ ہمیں مل کر دنیا کو لٹیروں کے ٹھکانے میں بدلنے سے بچانا ہوگا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی کے صدر فرینک والٹر اسٹین مائر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسیوں پر شدید تنقید کی ہے۔
برلن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے خبردار کیا ہے کہ عالمی قوانین اور اتحاد کو نظرانداز کیا گیا تو دنیا ایک ایسی جگہ بن جائے گی جہاں طاقتور ممالک کمزور ریاستوں کو اپنی مرضی کے تابع کرلیں گے۔
جرمن صدر فرینک والٹر اسٹین مائر نے مزید کہا کہ دنیا کو لٹیروں کے ٹھکانے میں تبدیل ہونے سے بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ روس کے کریمیا سے الحاق اور یوکرین پر حملے کے بعد اب امریکا کی حالیہ پالیسیاں بھی قواعد پر مبنی عالمی نظام، بین الاقوامی اقدار اور جمہوریت کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہیں۔
جرمن صدر کا کہنا تھا کہ اگر عالمی اتحاد اور بین الاقوامی قانون کو مضبوط نہ رکھا گیا تو طاقتور ریاستیں چھوٹے ممالک پر دباؤ ڈالیں گی۔ خودمختاری اور جمہوریت کمزور ہوگی اور عالمی نظام انتشار کا شکار ہو جائے گا۔
انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یورپ کو عالمی قوانین کے دفاع میں واضح اور متحد مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ دنیا کے کسی بھی ملک پر امریکی فوجی کارروائی کا حکم دینے کا مکمل اختیار میرے پاس ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ بطور کمانڈر اِن چیف وہ خود ہی اپنے اختیارات کی حد کا تعین کرتے ہیں، اور انہیں صرف ان کی اپنی اخلاقیات اور ان کی ذاتی سوچ ہی روک سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔