کراچی میں 4 روز کیلئے پانی کی فراہمی معطل کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
منصوبے پر جاری کام 13 جنوری بروز منگل تک مکمل کر لیا جائے گا۔ منصوبے کی تکمیل کیلئے اولڈ پپری پمپنگ اسٹیشن کو 96 گھنٹے کیلئے بند رکھا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں بروز ہفتہ سے 4 روز کیلئے پانی کی فراہمی معطل کرنے کا اعلان کر دیا گیا، جس سے مختلف علاقے متاثر ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق ڈبلیو ای ایس ایس آئی پی کے تحت اولڈ پپری مین پر بچھائی گئی نئی لائن کو موجودہ واٹر نیٹ ورک سے منسلک کرنے کا کام ہفتہ سے شروع ہوگا۔ منصوبے پر جاری کام 13 جنوری بروز منگل تک مکمل کر لیا جائے گا۔ منصوبے کی تکمیل کیلئے اولڈ پپری پمپنگ اسٹیشن کو 96 گھنٹے کیلئے بند رکھا جائے گا، جس کے باعث پمپنگ اسٹیشن سے شہر کو پانی کی فراہمی عارضی طور پر معطل رہے گی۔ اس دوران ملیر، شاہ فیصل اور ماڈل زون ٹاؤن کے بعض علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر ہوگی۔
کام کے دوران لانڈھی اور شیرپاؤ میں ہائیڈرنٹس بھی بند رہیں گے اور لائن کو فعال کرنے کیلئے موجودہ نظام سے منسلک کرنے کے ساتھ جدید والوز نصب کیے جائیں گے۔ پرانی پپری پمپنگ اسٹیشن کی بندش کے باعث شہر کو یومیہ تقریبا 60 ملین گیلن پانی کی عارضی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا، مینٹیننس کے باعث مجموعی فراہمی میں عارضی کمی کے باوجود شہر کو یومیہ تقریبا 590 ملین گیلن پانی کی فراہمی جاری رکھی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پانی کی فراہمی پمپنگ اسٹیشن جائے گا
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :