اسرائیل کا شمالی مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی زمینوں حملہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
حکام نے قلقیلیہ اورسلفیت میں 694 ایکڑ اراضی پرزبردستی قبضہ کرلیا
فوجی احکامات کے ذریعے جھوٹا جواز بنا کر عوام کے حق ملکیت کو روند ڈالا
قابض اسرائیلی حکام نے شمالی مقبوضہ مغربی کنارے میں قلقیلیہ اور سلفیت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والی فلسطینی زمینوں پر ایک اور سنگین حملہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 694 ایکڑ اراضی پر زبردستی قبضہ کر لیا ہے۔ یہ زمینیں قلقیلیہ کے بلدہ کفر ثلث جبکہ سلفیت ضلع کے بلدہ دیر استیا اور بدیا میں واقع ہیں جہاں قابض ریاست نے نام نہاد ریاستی زمین کا جھوٹا جواز بنا کر فلسطینی عوام کے حق ملکیت کو روند ڈالا۔ نسلی دیوار اور یہودی آبادکاری مزاحمتی کمیشن کے سربراہ وزیر مؤید شعبان نے ایک بیان میں کہا کہ قابض اسرائیل کا یہ اقدام زمینوں پر قبضے کی ظالمانہ پالیسی میں ایک خطرناک اور غیر معمولی جارحیت کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ قدم ایک منظم نوآبادیاتی طرز عمل کا حصہ ہے جس کا مقصد طاقت کے بل پر فلسطینی جغرافیے کی از سر نو تشکیل ہے اور اس کے لیے استعماری نوعیت کے قانونی ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ مؤید شعبان نے کہاکہ یہ فیصلہ مشرقی قلقیلیہ میں ایک نئی استعماری بستی کے قیام کے منصوبے سے جڑا ہوا ہے جو خاص طور پر کرنی شمرون نامی کالونی کے جنوب میں دوروت کے نام سے قائم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ قابض اسرائیل کا یہ اعلان یکطرفہ فوجی احکامات اور انتظامی اقدامات کے ایک ایسے نظام پر مبنی ہے جو فلسطینی ملکیتی حقوق کو مکمل طور پر نظر انداز کرتا ہے اور بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بالخصوص چوتھے جنیوا کنونشن کی جو قابض قوت کو زمین پر قبضہ کرنے یا اس کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے سے روکتا ہے۔ مؤید شعبان نے کہا کہ زمینوں کو ریاستی اراضی قرار دینا کوئی انتظامی یا تکنیکی کارروائی نہیں بلکہ قابض اسرائیل کے استعماری منصوبے کا مرکزی ہتھیار ہے جس کے ذریعے فلسطینی ملکیت کو خشک کیا جاتا ہے اور بعد ازاں انہی زمینوں پر کالونیوں کی توسیع کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ یہ سب فلسطینی زمینوں کے تدریجی انضمام کے منصوبے کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعلان ایک نہایت خطرناک سیاسی مرحلے میں سامنے آیا ہے جہاں قانون سازی آبادکاری منصوبے زمینوں پر قبضے کے فیصلے اور نوآبادیاتی ٹینڈرز باہم مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دے رہے ہیں جس کا مقصد زمین پر مستقل حقائق مسلط کرنا ہے اور عارضی قبضے کو ایک مستقل جبری بالادستی میں بدل دینا ہے۔ مؤید شعبان نے کہاکہ دیوار اور آبادکاری مزاحمتی ادارہ اس اعلان کے تمام قانونی اور زمینی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے اور متاثرہ شہریوں کی معاونت کے ساتھ ساتھ ممکنہ قانونی اقدامات کو آگے بڑھائے گا تاکہ ان استعماری منصوبوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان پالیسیوں کو عالمی برادری اور متعلقہ اقوام متحدہ کے اداروں کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ فلسطینی زمین کوئی انتظامی تنازع نہیں بلکہ ایک ایسے عوام کا مسلمہ حق ہے جو قابض اسرائیل کے زیر تسلط ہیں،فوجی احکامات اور اعلانات کے ذریعے قبضے کو جائز قرار دینے کی تمام کوششیں اس حقیقت کو نہیں بدل سکتیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ منظم استعمار ہے اور اس کے لیے عالمی برادری کی جانب سے محض خاموشی اور زبانی مذمت سے آگے بڑھ کر ذمہ دارانہ موقف اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: قابض اسرائیل فلسطینی زمین نے کہاکہ ہے اور
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں