حکام نے قلقیلیہ اورسلفیت میں 694 ایکڑ اراضی پرزبردستی قبضہ کرلیا
فوجی احکامات کے ذریعے جھوٹا جواز بنا کر عوام کے حق ملکیت کو روند ڈالا

قابض اسرائیلی حکام نے شمالی مقبوضہ مغربی کنارے میں قلقیلیہ اور سلفیت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والی فلسطینی زمینوں پر ایک اور سنگین حملہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 694 ایکڑ اراضی پر زبردستی قبضہ کر لیا ہے۔ یہ زمینیں قلقیلیہ کے بلدہ کفر ثلث جبکہ سلفیت ضلع کے بلدہ دیر استیا اور بدیا میں واقع ہیں جہاں قابض ریاست نے نام نہاد ریاستی زمین کا جھوٹا جواز بنا کر فلسطینی عوام کے حق ملکیت کو روند ڈالا۔ نسلی دیوار اور یہودی آبادکاری مزاحمتی کمیشن کے سربراہ وزیر مؤید شعبان نے ایک بیان میں کہا کہ قابض اسرائیل کا یہ اقدام زمینوں پر قبضے کی ظالمانہ پالیسی میں ایک خطرناک اور غیر معمولی جارحیت کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ قدم ایک منظم نوآبادیاتی طرز عمل کا حصہ ہے جس کا مقصد طاقت کے بل پر فلسطینی جغرافیے کی از سر نو تشکیل ہے اور اس کے لیے استعماری نوعیت کے قانونی ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ مؤید شعبان نے کہاکہ یہ فیصلہ مشرقی قلقیلیہ میں ایک نئی استعماری بستی کے قیام کے منصوبے سے جڑا ہوا ہے جو خاص طور پر کرنی شمرون نامی کالونی کے جنوب میں دوروت کے نام سے قائم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ قابض اسرائیل کا یہ اعلان یکطرفہ فوجی احکامات اور انتظامی اقدامات کے ایک ایسے نظام پر مبنی ہے جو فلسطینی ملکیتی حقوق کو مکمل طور پر نظر انداز کرتا ہے اور بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بالخصوص چوتھے جنیوا کنونشن کی جو قابض قوت کو زمین پر قبضہ کرنے یا اس کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے سے روکتا ہے۔ مؤید شعبان نے کہا کہ زمینوں کو ریاستی اراضی قرار دینا کوئی انتظامی یا تکنیکی کارروائی نہیں بلکہ قابض اسرائیل کے استعماری منصوبے کا مرکزی ہتھیار ہے جس کے ذریعے فلسطینی ملکیت کو خشک کیا جاتا ہے اور بعد ازاں انہی زمینوں پر کالونیوں کی توسیع کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ یہ سب فلسطینی زمینوں کے تدریجی انضمام کے منصوبے کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعلان ایک نہایت خطرناک سیاسی مرحلے میں سامنے آیا ہے جہاں قانون سازی آبادکاری منصوبے زمینوں پر قبضے کے فیصلے اور نوآبادیاتی ٹینڈرز باہم مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دے رہے ہیں جس کا مقصد زمین پر مستقل حقائق مسلط کرنا ہے اور عارضی قبضے کو ایک مستقل جبری بالادستی میں بدل دینا ہے۔ مؤید شعبان نے کہاکہ دیوار اور آبادکاری مزاحمتی ادارہ اس اعلان کے تمام قانونی اور زمینی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے اور متاثرہ شہریوں کی معاونت کے ساتھ ساتھ ممکنہ قانونی اقدامات کو آگے بڑھائے گا تاکہ ان استعماری منصوبوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان پالیسیوں کو عالمی برادری اور متعلقہ اقوام متحدہ کے اداروں کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ فلسطینی زمین کوئی انتظامی تنازع نہیں بلکہ ایک ایسے عوام کا مسلمہ حق ہے جو قابض اسرائیل کے زیر تسلط ہیں،فوجی احکامات اور اعلانات کے ذریعے قبضے کو جائز قرار دینے کی تمام کوششیں اس حقیقت کو نہیں بدل سکتیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ منظم استعمار ہے اور اس کے لیے عالمی برادری کی جانب سے محض خاموشی اور زبانی مذمت سے آگے بڑھ کر ذمہ دارانہ موقف اختیار کرنا ناگزیر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: قابض اسرائیل فلسطینی زمین نے کہاکہ ہے اور

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان