اسرائیل میں 45 برس قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260109-03-5
(2)
افتخار گیلانی
’’میں لڑکا تھا جب جیل میں داخل ہوا‘‘، اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر انہوں نے کہا۔ ’’اب بوڑھا ہوگیا ہوں‘‘۔ اگلے ساڑھے چار عشروں میں انہیں تقریباً ہر اسرائیلی جیل میں منتقل کیا گیا۔ گلبوع، بیرشیبہ کے تمام حصے، رملہ، نفحہ، ریمون، اشکلون، نقب، یہ سبھی جیلیں میرا ٹھکانہ رہ چکی ہیں۔ اسرائیلی جبر دکھانے اور اذیتیں دینے میں تخلیق کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایک جبر ختم تو دوسرا طریقہ شروع۔ گیارہ برس انہوں نے ایک ہی جیل میں گزارے، جن میں سے آٹھ برس ایک ہی سیل کی دیواروں کو تکتے ہوئے صرف ہوئے۔ نو قیدیوں کے لیے بنے سیل میں پندرہ افراد تھے۔ ٹھنڈے کنکریٹ کے فرش پر جسم، جسم سے جڑے ہوئے ہوتے تھے۔ نہ پھیلنے کی جگہ، نہ رازداری۔ جیل، ان کے مطابق، صرف قید کی جگہ نہیں تھی۔ یہ ایک ایسا نظام تھا جو انسانی روح کو آہستہ آہستہ، منصوبہ بند طریقے سے تھکانے کے لیے بنایا گیا تھا، بغیر ایسے نشانات چھوڑے جو باہر کی دنیا کو الرٹ کردیں۔ اشکلون جیل ان کی یاد میں سب سے زیادہ وحشیانہ جگہوں میں سے ایک کے طور پر نقش ہے۔ وہاں تشدد کوئی استثنا نہیں بلکہ معمول تھا۔ جب قیدی بنیادی حقوق کے لیے بھوک ہڑتال کرتے، تو جواب میں زبردستی خوراک دی جاتی۔ اس کو بھی اذیت کا ذریعہ بنایا جاتا تھا۔ ’’ربڑ کی استعمال شدہ نالیاں منہ یا ناک میں زبردستی ڈالی جاتیں تھیں، وہ نالی اتنی نیچے دھکیلتے کہ خون بہنے لگتا۔ پھر انتہائی گرم دودھ، نمک ملا کر، پیٹ میں انڈیل دیتے تھے۔ قیدیوں کو باندھ دیا جاتا تھا تاکہ حرکت سے محروم ہوجانے پر وہ مزاحمت نہ کرسکیں۔ ایک قیدی کے منہ سے نالی نکالی جاتی اور دوسرے کے منہ میں ڈال دی جاتی تھی۔ اس طرح کچھ لوگوں کے پھیپھڑے بیکار ہوگئے، کیونکہ دودھ ان میں چلا گیا تھا‘‘۔ برغوثی جب یہ بیان کر رہے تھے، تو میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھیں بند تھیں۔ شاید ان کا ذہن دوبارہ جیل میں پہنچ گیا تھا۔ وہ بتارہے تھے، ’’مار پیٹ روز روز کی غذا تھی۔ نقاب پوش محافظ سیلوں پر دھاوا بولتے، ڈنڈوں، بوٹوں اور مکوں سے حملہ کرتے۔ بند جگہوں میں آنسو گیس چھوڑی جاتی تھی۔ سٹن گرنیڈ پھٹتے۔ قیدیوں پر خوفناک کتے چھوڑے جاتے تھے، جن کو ایسی ہی تربیت دی جاتی تھی‘‘۔ اس کے ساتھ انہوں نے اپنی آستینیں اوپر کرکے بازو دکھائے، جن پر ان گنت نشانات پڑ ے ہوئے تھے۔ ان کے بازو کو بھنبھوڑا گیا تھا۔ ’’کئی قیدی تشدد میں مارے گئے۔ جو بچ گئے، وہ میری طرح مستقل زخموں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ کئی قیدی ٹوٹی پسلیوں، خراب اعضاء اور دائمی درد کے ساتھ پس زندان ہیں‘‘۔ اسرائیلی جیلوں میں کھانے کے نظم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کھانا بس اتنا دیا جاتا تھا کہ ان پر قیدیوں کو بھوک سے مارنے کا الزام نہ آئے۔ ’’چائے کے کپ سے بھی چھوٹے برتن میں پتلا سا سوپ۔ نہ پھل، نہ گوشت۔ کیلوریز اس طرح ناپی جاتیں کہ قیدی بس زندہ رہیں۔ یہ پیسہ بچانے کے لیے نہیں بلکہ کنٹرول کے لیے تھا‘‘۔ برغوثی کا وزن بیس کلو سے زیادہ کم ہو گیا تھا۔ دوسروں کا اس سے کہیں زیادہ، بعض کا ستر کلو تک وزن کم ہوگیا۔ ’’دانتوں کے درد کا علاج ہی نہیں کیا جاتا۔ قیدی ہفتوں سوجے
چہروں کے ساتھ زندگی گزارتے تھے، نہ سو سکتے، نہ کھا سکتے، نہ سوچ سکتے تھے۔ کسی کو درد کی ایک گولی تک نہیں ملتی تھی‘‘۔ انہوں نے کہا ’’سوچیں، کسی کے ساتھ ایک کمرے میں ہفتوں رہنا، جب وہ ناقابل ِ برداشت درد کی حالت میں ہو اور آپ کچھ نہ کر سکنے کی پوزیشن میں ہوں۔ بے بسی کی ایسی انتہائی حالت میں بس مرنے کی ہی دعا کی جاسکتی ہے‘‘۔ اس تشدد کے خلاف اور حقوق کی آواز بلند کرنے، جیسے اہل خانہ سے ملاقاتیں، قید تنہائی کا خاتمہ، بچے یا ماں سے ملاقات منوانے کے لیے قیدیوں کے پاس بس بھوک ہڑتاک کے سوا کوئی اور ہتھیار نہیں ہوتا تھا۔ ’’اگر میں اپنی تمام بھوک ہڑتالیں گنوں، تو یہ تقریباً دو سال بغیر کھانے کے بنتی ہیں یعنی اس کا دورانیہ سات سو تیس دن کا ہے‘‘۔ جب ایک قیدی کو تنہائی میں ڈالا جاتا تو دوسرے یکجہتی میں بھوک ہڑتال کرتے۔ ’’برغوثی نے کہا کہ وہ ہمارے اندر کی انسانیت مارنا چاہتے تھے۔ ہم نے بھوک بانٹ کر مزاحمت کی۔ اپنی قید تنہائی کا ذکرکرتے ہوئے اس فلسطینی قیدی نے کہا کہ ان کے خیال میں قید تنہائی شخصیت مٹانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ قید تنہائی میں وہ سیل میں رینگتے ہوئے کاکروچ اور دیگر کیڑے مکوڑو ں سے باتیں کرتے تھے۔ خوف تھا کہ کہیں وہ بولنا ہی بھول نہ جائیں۔ مگر اس دوران میں نے دیکھا کہ اگر ایک کاکروچ کو نقصان پہنچتا تھا تو دیگر اس کی مدد کرنے پہنچ جاتے تھے۔ اس کو دیوار پر چڑھنے میں مدد کرتے تھے۔ ایک فلسفی کے انداز میں برغوثی نے سوال کیا کہ انسان دیگر
انسانوں کی مدد کیوں نہیں کرپاتا ہے؟ اپنے برادر اکبر عمر کے ساتھ رشتہ ان کی جیل کی زندگی کا بڑا حصہ رہا۔ عمر چار سال بڑے تھے اور وہ بھی مزاحمت کے علمبردار تھے۔ 1985 میں جب قیدیوں کے تبادلے ہونے والے تھے، تو نائل کا نام فہرست میں تھا۔ ’’تین ماہ پہلے اسرائیلی حکام نے مجھے بتایا کہ میرا نام رہا ہونے والے فلسطینیوں میں شامل ہے، تو میں نے کہا کہ اگر سب کو رہا کیا جاتا ہے، تو ہی میں جیل سے باہر نکلوں گا۔ اگر صرف لسٹ میں شامل قیدیوں کی ہی رہائی ہونی ہے، تو میں اپنی جگہ عمر کو شامل کروانا چاہتا ہوں‘‘۔ عمر رہا ہو گئے۔ نائل وہیں رہے۔ بعد میں انتفاضہ کے دوران عمر کو دوبارہ قیدی بنایا گیا۔ بہت سے رہا شدہ قیدی دوبارہ واپس جیلوں کی زینت بن گئے۔ برغوثی نے دونوں والدین جیل میں رہتے ہوئے کھو دیے۔ انہیں الوداع کہنے کی اجازت نہیں ملی۔ 2004 میں قیدیوں نے انیس دن کی بھوک ہڑتال کی۔ ان کے والد باہر یکجہتی کے مظاہروں میں شامل ہوئے۔ کچھ ہی عرصے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ ماں کی موت بھی اسی طرح آئی۔ قیدیوں کے لیے فلسطینی حکام نے ایک ایف ایم ریڈیو اسٹیشن قائم کیا تھا۔ قیدی اس ایف ایم کے پروگراموں کو چھوٹے ٹرانزسٹروں پر سنتے ہیں۔ اس پر رات گیارہ بجکر تین منٹ پر ان کی ماں کی آواز سنائی دی۔ اس نے کہا ’’عزت کا گھر دولت کے گھر سے بہتر ہے‘‘۔ پھر اسی رات دو بجے ان کا انتقال ہوگیا۔ ’’دنیا دھند بن گئی‘‘، انہوں نے کہا۔ ’’والدین کو کھونا زندگی کا ایڈریس کھو دینے جیسا ہے۔ میں اندر سے وہ ٹوٹ گیا تھا۔ مگر باہر سے خود کو سنبھالے رکھا‘‘۔ میں اپنی کمزوری جوان قیدیوں پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔
(جاری ہے)
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا قید تنہائی قیدیوں کے نے کہا کہ گیا تھا کے ساتھ جیل میں کے لیے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔