Jasarat News:
2026-06-03@02:35:16 GMT

  اسرائیل میں 45 برس قید کاٹنے والے فلسطینی سے ملاقات

اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260109-03-5

 

(2)

افتخار گیلانی

’’میں لڑکا تھا جب جیل میں داخل ہوا‘‘، اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر انہوں نے کہا۔ ’’اب بوڑھا ہوگیا ہوں‘‘۔ اگلے ساڑھے چار عشروں میں انہیں تقریباً ہر اسرائیلی جیل میں منتقل کیا گیا۔ گلبوع، بیرشیبہ کے تمام حصے، رملہ، نفحہ، ریمون، اشکلون، نقب، یہ سبھی جیلیں میرا ٹھکانہ رہ چکی ہیں۔ اسرائیلی جبر دکھانے اور اذیتیں دینے میں تخلیق کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایک جبر ختم تو دوسرا طریقہ شروع۔ گیارہ برس انہوں نے ایک ہی جیل میں گزارے، جن میں سے آٹھ برس ایک ہی سیل کی دیواروں کو تکتے ہوئے صرف ہوئے۔ نو قیدیوں کے لیے بنے سیل میں پندرہ افراد تھے۔ ٹھنڈے کنکریٹ کے فرش پر جسم، جسم سے جڑے ہوئے ہوتے تھے۔ نہ پھیلنے کی جگہ، نہ رازداری۔ جیل، ان کے مطابق، صرف قید کی جگہ نہیں تھی۔ یہ ایک ایسا نظام تھا جو انسانی روح کو آہستہ آہستہ، منصوبہ بند طریقے سے تھکانے کے لیے بنایا گیا تھا، بغیر ایسے نشانات چھوڑے جو باہر کی دنیا کو الرٹ کردیں۔ اشکلون جیل ان کی یاد میں سب سے زیادہ وحشیانہ جگہوں میں سے ایک کے طور پر نقش ہے۔ وہاں تشدد کوئی استثنا نہیں بلکہ معمول تھا۔ جب قیدی بنیادی حقوق کے لیے بھوک ہڑتال کرتے، تو جواب میں زبردستی خوراک دی جاتی۔ اس کو بھی اذیت کا ذریعہ بنایا جاتا تھا۔ ’’ربڑ کی استعمال شدہ نالیاں منہ یا ناک میں زبردستی ڈالی جاتیں تھیں، وہ نالی اتنی نیچے دھکیلتے کہ خون بہنے لگتا۔ پھر انتہائی گرم دودھ، نمک ملا کر، پیٹ میں انڈیل دیتے تھے۔ قیدیوں کو باندھ دیا جاتا تھا تاکہ حرکت سے محروم ہوجانے پر وہ مزاحمت نہ کرسکیں۔ ایک قیدی کے منہ سے نالی نکالی جاتی اور دوسرے کے منہ میں ڈال دی جاتی تھی۔ اس طرح کچھ لوگوں کے پھیپھڑے بیکار ہوگئے، کیونکہ دودھ ان میں چلا گیا تھا‘‘۔ برغوثی جب یہ بیان کر رہے تھے، تو میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھیں بند تھیں۔ شاید ان کا ذہن دوبارہ جیل میں پہنچ گیا تھا۔ وہ بتارہے تھے، ’’مار پیٹ روز روز کی غذا تھی۔ نقاب پوش محافظ سیلوں پر دھاوا بولتے، ڈنڈوں، بوٹوں اور مکوں سے حملہ کرتے۔ بند جگہوں میں آنسو گیس چھوڑی جاتی تھی۔ سٹن گرنیڈ پھٹتے۔ قیدیوں پر خوفناک کتے چھوڑے جاتے تھے، جن کو ایسی ہی تربیت دی جاتی تھی‘‘۔ اس کے ساتھ انہوں نے اپنی آستینیں اوپر کرکے بازو دکھائے، جن پر ان گنت نشانات پڑ ے ہوئے تھے۔ ان کے بازو کو بھنبھوڑا گیا تھا۔ ’’کئی قیدی تشدد میں مارے گئے۔ جو بچ گئے، وہ میری طرح مستقل زخموں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ کئی قیدی ٹوٹی پسلیوں، خراب اعضاء اور دائمی درد کے ساتھ پس زندان ہیں‘‘۔ اسرائیلی جیلوں میں کھانے کے نظم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کھانا بس اتنا دیا جاتا تھا کہ ان پر قیدیوں کو بھوک سے مارنے کا الزام نہ آئے۔ ’’چائے کے کپ سے بھی چھوٹے برتن میں پتلا سا سوپ۔ نہ پھل، نہ گوشت۔ کیلوریز اس طرح ناپی جاتیں کہ قیدی بس زندہ رہیں۔ یہ پیسہ بچانے کے لیے نہیں بلکہ کنٹرول کے لیے تھا‘‘۔ برغوثی کا وزن بیس کلو سے زیادہ کم ہو گیا تھا۔ دوسروں کا اس سے کہیں زیادہ، بعض کا ستر کلو تک وزن کم ہوگیا۔ ’’دانتوں کے درد کا علاج ہی نہیں کیا جاتا۔ قیدی ہفتوں سوجے

چہروں کے ساتھ زندگی گزارتے تھے، نہ سو سکتے، نہ کھا سکتے، نہ سوچ سکتے تھے۔ کسی کو درد کی ایک گولی تک نہیں ملتی تھی‘‘۔ انہوں نے کہا ’’سوچیں، کسی کے ساتھ ایک کمرے میں ہفتوں رہنا، جب وہ ناقابل ِ برداشت درد کی حالت میں ہو اور آپ کچھ نہ کر سکنے کی پوزیشن میں ہوں۔ بے بسی کی ایسی انتہائی حالت میں بس مرنے کی ہی دعا کی جاسکتی ہے‘‘۔ اس تشدد کے خلاف اور حقوق کی آواز بلند کرنے، جیسے اہل خانہ سے ملاقاتیں، قید تنہائی کا خاتمہ، بچے یا ماں سے ملاقات منوانے کے لیے قیدیوں کے پاس بس بھوک ہڑتاک کے سوا کوئی اور ہتھیار نہیں ہوتا تھا۔ ’’اگر میں اپنی تمام بھوک ہڑتالیں گنوں، تو یہ تقریباً دو سال بغیر کھانے کے بنتی ہیں یعنی اس کا دورانیہ سات سو تیس دن کا ہے‘‘۔ جب ایک قیدی کو تنہائی میں ڈالا جاتا تو دوسرے یکجہتی میں بھوک ہڑتال کرتے۔ ’’برغوثی نے کہا کہ وہ ہمارے اندر کی انسانیت مارنا چاہتے تھے۔ ہم نے بھوک بانٹ کر مزاحمت کی۔ اپنی قید تنہائی کا ذکرکرتے ہوئے اس فلسطینی قیدی نے کہا کہ ان کے خیال میں قید تنہائی شخصیت مٹانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ قید تنہائی میں وہ سیل میں رینگتے ہوئے کاکروچ اور دیگر کیڑے مکوڑو ں سے باتیں کرتے تھے۔ خوف تھا کہ کہیں وہ بولنا ہی بھول نہ جائیں۔ مگر اس دوران میں نے دیکھا کہ اگر ایک کاکروچ کو نقصان پہنچتا تھا تو دیگر اس کی مدد کرنے پہنچ جاتے تھے۔ اس کو دیوار پر چڑھنے میں مدد کرتے تھے۔ ایک فلسفی کے انداز میں برغوثی نے سوال کیا کہ انسان دیگر

انسانوں کی مدد کیوں نہیں کرپاتا ہے؟ اپنے برادر اکبر عمر کے ساتھ رشتہ ان کی جیل کی زندگی کا بڑا حصہ رہا۔ عمر چار سال بڑے تھے اور وہ بھی مزاحمت کے علمبردار تھے۔ 1985 میں جب قیدیوں کے تبادلے ہونے والے تھے، تو نائل کا نام فہرست میں تھا۔ ’’تین ماہ پہلے اسرائیلی حکام نے مجھے بتایا کہ میرا نام رہا ہونے والے فلسطینیوں میں شامل ہے، تو میں نے کہا کہ اگر سب کو رہا کیا جاتا ہے، تو ہی میں جیل سے باہر نکلوں گا۔ اگر صرف لسٹ میں شامل قیدیوں کی ہی رہائی ہونی ہے، تو میں اپنی جگہ عمر کو شامل کروانا چاہتا ہوں‘‘۔ عمر رہا ہو گئے۔ نائل وہیں رہے۔ بعد میں انتفاضہ کے دوران عمر کو دوبارہ قیدی بنایا گیا۔ بہت سے رہا شدہ قیدی دوبارہ واپس جیلوں کی زینت بن گئے۔ برغوثی نے دونوں والدین جیل میں رہتے ہوئے کھو دیے۔ انہیں الوداع کہنے کی اجازت نہیں ملی۔ 2004 میں قیدیوں نے انیس دن کی بھوک ہڑتال کی۔ ان کے والد باہر یکجہتی کے مظاہروں میں شامل ہوئے۔ کچھ ہی عرصے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ ماں کی موت بھی اسی طرح آئی۔ قیدیوں کے لیے فلسطینی حکام نے ایک ایف ایم ریڈیو اسٹیشن قائم کیا تھا۔ قیدی اس ایف ایم کے پروگراموں کو چھوٹے ٹرانزسٹروں پر سنتے ہیں۔ اس پر رات گیارہ بجکر تین منٹ پر ان کی ماں کی آواز سنائی دی۔ اس نے کہا ’’عزت کا گھر دولت کے گھر سے بہتر ہے‘‘۔ پھر اسی رات دو بجے ان کا انتقال ہوگیا۔ ’’دنیا دھند بن گئی‘‘، انہوں نے کہا۔ ’’والدین کو کھونا زندگی کا ایڈریس کھو دینے جیسا ہے۔ میں اندر سے وہ ٹوٹ گیا تھا۔ مگر باہر سے خود کو سنبھالے رکھا‘‘۔ میں اپنی کمزوری جوان قیدیوں پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔

(جاری ہے)

افتخار گیلانی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا قید تنہائی قیدیوں کے نے کہا کہ گیا تھا کے ساتھ جیل میں کے لیے

پڑھیں:

سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک

سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئےفتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 مئی کو پیش آنے والے ٹرین واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر متعدد آپریشنز کیے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن، ان کی کوئی ناراضی نہیں، رانا ثنااللہ

آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید اور سخت فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جس سے ان علاقوں میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔

ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ان علاقوں سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔

مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور

بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آئی ایس پی آر بلوچستان دہشتگرد ہلاک سیکیورٹی فورسز وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار