برمنگھم کا آسمان گلابی رنگ میں ڈھل گیا: برفانی طوفان کے دوران خوبصورت مناظر
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
برمنگھم اور ویسٹ مڈلینڈز کے آسمانوں میں جمعرات کی شام، 8 جنوری 2026 کو طوفان گوریٹی کے اثرات کے دوران گلابی روشنی کے حیرت انگیز مناظر دیکھنے کو ملے، برمنگھم کے رہائشیوں نے پورے کاؤنٹی سے نظر آنے والا یہ دلفریب رنگ دیکھا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں سپر مون کا خوبصورت نظارہ
ابتدائی طور پر کچھ لوگوں نے اس گلابی روشنی کو ‘اورورا بوریالس’ یا شمالی روشنی قرار دیا، مگر ماہرین موسمیات کے مطابق اصل وجہ زیادہ زمینی اور حیران کن تھی۔
میٹ آفس کے ترجمان گراہیم میج نے بتایا کہ برف یا پانی کے قطروں سے روشنی کا بکھراؤ زیادہ ہوتا ہے، جس سے نیلی روشنی کم پہنچتی ہے اور سرخ اور نارنجی لہریں زیادہ نمایاں ہوتی ہیں۔ اس سے رنگ گلابی یا نارنجی نظر آتے ہیں۔
Experts say snowfall makes the sky more reflective ❄️#dailyexpress #birmingham #pinksky pic.
— Daily Express (@Daily_Express) January 9, 2026
حقیقی وجہ برمنگھم سٹی کے سینٹ اینڈریوز فٹ بال گراؤنڈ کے ایل ای ڈی لائٹس تھیں، جو گراس کو زیادہ نمی یا نقصان سے بچانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ ہیڈنس فورڈ ٹاؤن فٹ بال کلب نے بھی اس ہفتے ایسا ہی منظر دیکھا اور کہا کہ یہ ‘گراس کی نمو اور بحالی کے لیے ہے، اور اورورا کے لیے نہیں۔’
یہ بھی پڑھیں: امریکا کے آسمان پر روشنیوں اور رنگینیوں کا رقص
تصاویر میں برمنگھم سٹی سنٹر سے لے کر ہیڈنس فورڈ، اسٹافورڈ شائر تک گلابی آسمان دکھائی دے رہا ہے۔
برفانی طوفان کے باعث ویسٹ مڈلینڈز اور ویلز میں درجنوں اسکول جمعہ کو بند رہیں، جبکہ سکاٹ لینڈ میں 250 سے زیادہ اسکول بند رہنے کی توقع ہے، جن میں 150 سے زائد ایبرڈین شائر، ہائی لینڈز، ایبرڈین اور کچھ مورے کے اسکول شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آسمان برطانیہ برمنگھم گلابی رنگ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برطانیہ برمنگھم گلابی رنگ کے لیے
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔