کراچی: پی ٹی آئی کی کورنگی میں جلسے کی درخواست مسترد
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
کراچی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کورنگی میں جلسے کی درخواست مسترد کردی گئی۔
ڈپٹی کمشنر کورنگی کا کہنا ہے کہ جلسہ کا مقام مین روڈ ہے ٹریفک میں خلل کا اندیشہ ہے، اجازت نہیں دے سکتے، متبادل جگہ کا فیصلہ کرکے شرکاء کی متوقع تعداد، دیگر معلومات دیں غور کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی کراچی آمد پر صوبائی وزیر سعید غنی نے
سہیل آفریدی سندھ کے دورے پر کراچی پہنچے، ایئر پورٹ پر صوبائی وزیر سعید غنی نے استقبال کیا اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا و دیگر کو اجرک اور سندھی ٹوپی پہنائی۔
بعد ازاں سہیل آفریدی قافلے کی شکل میں ایئر پورٹ سے روانہ ہوگئے ہیں۔
سندھ کے دورے پر آئے ہوئے سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ کا سرکاری پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے اسلام آباد سے روانگی کے وقت اپنے بیان میں کہا تھا کہ صوبائی کابینہ اراکین اور پارٹی پارلیمنٹیرینز بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ ہیں، وزیراعلیٰ کا سندھ کا دورہ اسٹریٹ موومنٹ میں مزید تیزی لانے کے لیے اہم ہے۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا آج ضلع جنوبی، ملیر اور کورنگی میں جیل اسیران سے ملیں گے، سہیل آفریدی 11 جنوری کو مزار قائد پر بڑا جلسہ منعقد کریں گے۔
ان کا استقبال کیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔