سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان کی طرح کراچی کے ہر ٹاؤن و یوسی کو ترقیاتی فنڈ دیے جائیں، منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے مرکزی اور مقامی ذمہ داران کے ہمراہ ماڈل کالونی ٹاؤن کا ہنگامی دورہ کیا اور ٹاؤن میں جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کے ہر ٹاؤن اور ہر یوسی کو ترقیاتی بجٹ فراہم کیا جائے جیسا کہ سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان کے دور میں کیا جاتا تھا۔
انہوں نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی بدانتظامی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہری سیوریج کے پانی، پینے کے پانی کی کمی اور کچرے کے ڈھیر کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے پاس اربوں روپے کے منصوبے موجود ہیں، مگر 7 سال گزرنے کے باوجود یہ منصوبے مکمل نہیں ہوئے، جبکہ 2019 میں شروع ہونے والا پانی کا کے فور منصوبہ تاخیر کا شکار ہے، جس کا خمیازہ عوام پانی کی کمی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ماڈل کالونی ٹاؤن میں یوسی 1، 2، 7 اور 8 کا تفصیلی دورہ کیا گیا، اور تعمیر و ترقی کا سفر جاری ہے۔ پارکس کی بحالی، کھیل کے میدانوں کی بہتری، تعلیمی اداروں کی ترقی، اور گلیوں میں اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کے کام جاری ہیں۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ گزشتہ 17 سال میں کراچی سے ہزاروں ارب روپے وصول کیے گئے، مگر شہر آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ ٹوٹا ہوا انفراسٹرکچر، کھلے گٹر اور سڑکوں کے گڑھے شہریوں، خاص طور پر بچوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی اور آئندہ دنوں میں اس جدوجہد کو مزید تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔ شہری سہولیات کی فراہمی اور حقوق کے تحفظ کے لیے جماعت اسلامی ہر سطح پر مزاحمت اور عملی جدوجہد جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔