برطانیہ میں پہلی فیکس مشین کے استعمال کو 180 سال گزرنے کے باوجود انگلینڈ کے 3 این ایچ ایس ٹرسٹس اب بھی روزمرہ امور میں اس پرانی ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔

برطانوی وزیر صحت ویس اسٹریٹنگ نے انکشاف کیا ہے کہ ملک بھر میں موجود 205 این ایچ ایس ٹرسٹس میں سے صرف 3 ادارے اب بھی فیکس مشینیں استعمال کر رہے ہیں، جن میں لیڈز، برمنگھم اور شریوسبری اینڈ ٹیلفورڈ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل دنیا میں مستعمل نشان ’ @‘: جانیے اس کا مطلب اور ہزاروں سال پرانی دلچسپ تاریخ

ویس اسٹریٹنگ کے مطابق لیڈز اور برمنگھم کے اسپتالوں نے آئندہ 12 ماہ میں فیکس مشینوں کا مکمل خاتمہ کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے، جبکہ شریوسبری اور ٹیلفورڈ کو اس عمل میں مزید وقت درکار ہوگا۔

وزیر صحت نے بتایا کہ وہ ان تینوں اداروں، لیڈز ٹیچنگ ہاسپٹلز این ایچ ایس ٹرسٹ، یونیورسٹی ہاسپٹلز برمنگھم این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور شریوسبری اینڈ ٹیلفورڈ ہاسپٹل این ایچ ایس ٹرسٹ کے ساتھ مل کر جدید نظام کی جانب منتقلی پر کام کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی حکم کے ذریعے فوری طور پر فیکس مشینوں کے استعمال پر پابندی لگائی جاتی تو ان اداروں کو عملی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا، اسی لیے مرحلہ وار خاتمے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈھائی ہزار سال پرانی ’آئس ممی‘ کا ٹیٹو سنگھار، ماہر آرٹسٹ بھی ایسی تخلیق سے قاصر

واضح رہے کہ فیکس مشینیں ماضی میں دفاتر، اسکولوں، اسپتالوں اور پولیس اسٹیشنوں میں عام استعمال ہوتی تھیں، تاہم 2000 کی دہائی کے اوائل میں ای میل کے فروغ کے بعد یہ ٹیکنالوجی تقریباً متروک ہو گئی تھی۔ اس کے باوجود صحت کے شعبے میں یہ طویل عرصے تک استعمال ہوتی رہیں۔

دسمبر 2018 میں اس وقت کے وزیر صحت میٹ ہینکاک نے این ایچ ایس کو نئی فیکس مشینیں خریدنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے اپریل 2020 تک مکمل خاتمے کا اعلان کیا تھا، تاہم یہ ہدف کئی بار دہرائے جانے کے باوجود پورا نہ ہو سکا۔

ویس اسٹریٹنگ نے 2024 میں وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک سال کے اندر اس معاملے پر پیش رفت سے آگاہ کریں گے، جس کے بعد اب انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ فیکس مشینوں کا استعمال اگرچہ محدود ہے، مگر کچھ اسپتالوں میں اب بھی شعبہ جاتی رابطے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ترکیہ میں دریافت ہونے والی دُنیا کی قدیم ترین روٹی کتنی پرانی ہے؟

انہوں نے مزید بتایا کہ بعض این ایچ ایس ٹرسٹس نے فیکس مشینیں ہنگامی صورت حال کے لیے ذخیرہ کر رکھی ہیں، خاص طور پر سائبر حملوں یا مواصلاتی نظام کی خرابی کی صورت میں متبادل رابطے کے طور پر۔

وزیر صحت کے مطابق اب این ایچ ایس میں فیکس مشینیں زیادہ تر الماریوں میں بند پڑی ہیں اور عملی طور پر ان کا دور اختتام کے قریب ہے، جسے وہ سابقہ وزرائے صحت کے وعدوں کی تکمیل قرار دیتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news برطانیہ فیکس مشین محکمہ صحت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: برطانیہ فیکس مشین فیکس مشینیں ایچ ایس رہے ہیں صحت کے اب بھی

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف