عالمی سیاسی کشیدگی: چینی،روسی،ایرانی جنگی جہازوں کی مشترکہ بحری مشقیں، جنوبی افریقی پانیوں میں جمع
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چینی، روسی اور ایرانی جنگی جہاز مشترکہ بحری مشقوں کے لیے جنوبی افریقی پانیوں میں جمع ہوگئے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق تینوں ممالک کے جنگی بحری جہاز ایک ہفتے کی بحری مشقوں کے لیے جنوبی افریقا کے پانیوں میں پہنچ گئے ہیں کیونکہ وینزویلا میں امریکا کی فوجی مداخلت اور اس کے کئی آئل ٹینکرز کو قبضے میں لے کر جغرافیائی سیاسی کشیدگی عروج پر ہے۔
چین کی وزارت دفاع نے جمعے کے روز ایک بیان میں کہا کہ مشقیں، جو ہفتے کے روز ایک افتتاحی تقریب کے ساتھ شروع ہونے والی ہیں “اہم شپنگ لین اور اقتصادی سرگرمیوں کی حفاظت کے لیے مشترکہ آپریشنز” ہیں۔
وزارت دفاع نے کہا کہ سمندری اہداف پر حملے اور “انسداد دہشت گردی” سے بچاؤ مشقوں کا حصہ ہوں گے۔
چینی، روسی اور ایرانی بحری جہاز اس بندرگاہ کے اندر اور باہر جاتے ہوئے دیکھے گئے جو کیپ ٹاؤن کے جنوب میں سائمنز ٹاؤن میں جنوبی افریقا کے اعلیٰ بحری اڈے کو سروس فراہم کرتا ہے جہاں بحر ہند بحر اوقیانوس سے ملتی ہے۔
یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ آیا برکس گروپ کے دیگر ممالک – جس میں برازیل، ہندوستان اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں، ان مشقوں میں حصہ لیں گے۔
جنوبی افریقی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا کہ وہ ابھی تک ان تمام ممالک کی مشقوں میں حصہ لینے کی تصدیق نہیں کر سکے، جو اگلے جمعہ تک جاری رہنے والی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔