جج اور وکیل لازم و ملزوم ہیں ،عدلیہ کی بہتری میں وکلا کا اہم کرداررہاہے ،چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
محراب پور(جسارت نیوز)جج اور وکیل لازم و ملزوم ہیں عدلیہ کی بہتری میں وکلا کا اہم کردار رہا ہے، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ ظفر احمد راجپوت نے نوشہرو فیروز کے دورہ میں مورو بار میں منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواب شاہ میں سندھ ہائی کورٹ کے بینچ کا قیام ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے وکلا اپنے ضلع نوشہرو فیروز سے تعلق رکھنے صوبائی قانون ضیا الحسن لنجار کو کہیں وہ اس پر عمل درآمد کرا سکتے ہیں، انکا مزید کہنا تھا کہ وکلا کیلئے ہاؤسنگ سوسائٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا، نوشہرو فیروز سیشن کورٹ، دیگر عدالتوں میں مزید جج مقرر کیئے جائیں گے نوشہرو فیروز سے انکا پرانا تعلق ہے یہاں سے سندھ بارکونسل کے رکن جی ایم عباسی ان کے دوست تھے۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ بار نوشہرو فیروز کیلئے لیبارٹری، سولر نظام، ائر کنڈنشنر اور تحصیل بار محراب پور، بھریا سٹی، مورو کیلئے سولر پاور پلانٹ اور لائبریری دینے کا اعلان کیا،آ خر میں انہوں نے نوشہرو فیرز میں زیر تعمیر انسداد دہشت گردی کی عدالت کے تعمیراتی کا کام کا جاہزہ بھی لیا،چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ ظفر احمد راجپوت کی آمد کے موقع پر اس منعقد تقریب میں ضلع بھر سے وکلاء کی ایک بڑی تعدادنے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نوشہرو فیروز
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔