کوئٹہ کراچی شاہراہ پروجیکٹ کا پانچواں افتتاح، مگر تعمیر مکمل نہ ہو سکی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
این 25 ہائی وے کا پانچواں افتتاح وزیراعظم شہباز شریف نے کر دیا، جبکہ ان سے قبل عمران خان اور انوار الحق کاکڑ نے بھی اسی پروجیکٹ کا افتتاح کیا تھا۔ تاہم اسکا کام مکمل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے صوبائی دارالرحکومت کوئٹہ سے سندھ کے دارلحکومت کراچی تک N-25 ہائی وے کا پانچویں مرتبہ افتتاح ہو گیا، تاہم تعمیر کا کام مکمل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے کوئٹہ سے کراچی شاہراہ کی تعمیر کرنے کے پروجیکٹ کا افتتاح کیا۔ تاہم ان سے قبل بھی اسی پروجیکٹ کا افتتاح چار مرتبہ ہو چکا ہے۔ سب سے پہلے 2019 میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے اس تعمیری کام کا افتتاح کیا۔ اسی پروجیکٹ کا دوسرا افتتاح پی ڈی ایم کے دور حکومت میں وزیراعظم شہباز شریف نے اس وقت کے وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کے ساتھ کیا، اسی دور میں اسکا تیسرا افتتاح بھی ہوا۔ بعد ازاں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کوئٹہ ٹو کراچی ہائی وے پروجیکٹ کا چوتھا افتتاح کیا۔ جبکہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے ہمراہ ایک مرتبہ پھر اسی پروجیکٹ کا افتتاح کیا ہے۔ ایک پروجیکٹ کا پانچ مرتبہ افتتاح ہو چکا ہے، تاہم تعمیر و تکمیل کے آثار دور دور تک نظر نہیں آ رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہائی وے کی تکمیل کا 20 فیصد کام بھی نہیں ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف نے پروجیکٹ کا افتتاح اسی پروجیکٹ کا کا افتتاح کیا ہائی وے
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔