کورٹیسول کو عموماً اسٹریس ہارمون کہا جاتا ہے۔ یہ ہارمون میٹابولزم، بلڈ پریشر اور ذہنی دباؤ کے دوران جسم کے ردعمل کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگرچہ کورٹیسول زندگی کے لیے ضروری ہے اور عارضی دباؤ میں جسم کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے، تاہم اس کی مسلسل بلند سطح جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خوشی، محبت و دیگر جذبات کے ہارمونز کونسے، یہ ہمارے دماغ پر کیسے حکومت کرتے ہیں؟

دائمی اسٹریس، نیند کی کمی اور مسلسل تھکن اس کی بڑی وجوہات سمجھی جاتی ہیں، ہائی کورٹیسول کی علامات کو بروقت پہچاننا صحت کے توازن کو بحال رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔

مناسب آرام کے باوجود مسلسل تھکن

ہائی کورٹیسول کی سب سے عام علامت مستقل تھکاوٹ ہے۔ پوری نیند لینے کے باوجود انسان خود کو نڈھال اور ذہنی طور پر بوجھل محسوس کرتا ہے، کورٹیسول کی زیادتی جسم کی قدرتی نیند جاگنے کی گھڑی کو متاثر کرتی ہے، جس کے باعث رات بھر مناسب بحالی نہیں ہو پاتی۔

بے چینی اور چڑچڑاپن میں اضافہ

کورٹیسول کی بلند سطح اعصابی نظام کو مسلسل فائٹ یا فلائٹ موڈ میں رکھتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بے چینی، گھبراہٹ، موڈ میں تیزی سے تبدیلی اور جذباتی ردعمل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ سکون محسوس کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اگر ادویہ سے بھی کولیسٹرول کم نہ ہو تو کیا کیا جائے؟

کورٹیسول چربی کو ذخیرہ کرنے میں مدد دیتا ہے، خصوصاً پیٹ کے حصے میں۔ اس کے ساتھ میٹھے اور چکنائی والی غذا کی خواہش بھی بڑھ جاتی ہے، جس کی وجہ سے صحت مند خوراک کے باوجود وزن کم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

نیند میں دشواری

رات کے وقت کورٹیسول کی زیادہ مقدار میلاٹونن ہارمون کی پیداوار میں رکاوٹ بنتی ہے، جس سے نیند آنے یا برقرار رکھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ خراب نیند مزید کورٹیسول بڑھا دیتی ہے اور اس طرح دباؤ کا ایک نہ ختم ہونے والا چکر بن جاتا ہے۔

مدافعتی نظام کی کمزوری

طویل عرصے تک ہائی کورٹیسول جسم کے مدافعتی نظام کو دبا دیتا ہے، جس سے بار بار انفیکشن، زخموں کا دیر سے بھرنا اور سوزش سے متعلق مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہائی بلڈ پریشر سے وابستہ گردوں کی بیماریاں اموات میں اضافے کا سبب قرار

اگرچہ کورٹیسول قلیل مدت کے دباؤ میں جسم کے لیے فائدہ مند ہے، لیکن اس کی مستقل زیادتی آہستہ آہستہ جسمانی صحت اور جذباتی توازن کو متاثر کرسکتی ہے۔ ان علامات کو بروقت سمجھ کر اسٹریس مینجمنٹ، بہتر نیند اور صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر طویل مدتی مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسٹریس ہارمون نیند ہائی کورٹیسول.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹریس ہارمون ہائی کورٹیسول ہائی کورٹیسول کورٹیسول کی جاتا ہے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی