ڈویلپمنٹ ٹیکس کا نفاذ، چینی کی قیمت میں اضافہ، 160 روپے کلو ہو گئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
لاہور؍ اسلام آباد (کامرس رپورٹر+ نمائندہ خصوصی+ اے پی پی+ نوائے وقت رپورٹ) شوگر ملز ایسوسی ایشن نے پنجاب کا شوگر کین ڈویلپمنٹ سیس 5 روپے سے کم کر کے دیگر صوبوں کے برابر کئے جانے کا مطالبہ کر دیا۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے شوگر کین ڈویلپمنٹ سیس 1964 سے لاگو ہے اور یہ ٹیکس ہر کرشنگ سیزن میں گنے پر عائد ہوتا ہے۔ تاہم یہ چینی کی پیداواری لاگت میں شامل ہوتا ہے۔ ٹیکس (سیس) حکومت ہر سال شوگر ملوں اور کسانوں سے مساوی طورپر وصول کرتی ہے۔ یہ ٹیکس گنے کی کھیتوں سے ملوں تک کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت، پلوں کی تعمیر اور گنے کی فصل پر تحقیق و ترویج کیلئے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ شوگر انڈسٹری حکومت سے درخواست کرتی ہے کہ پنجاب میں بھی گنے پر سیس 5 روپے کم کرکے دیگر صوبوں کے برابر کیا جائے۔ وزارت صنعت کے مطابق 10 سال میں پاکستان نے خام چینی کی درآمد پر 31 کروڑ 40 لاکھ ڈالر خرچ کیے۔ دستاویز کے مطابق سال 2015 سے 2025 کے دوران پاکستان نے مجموعی طور پر 1 ارب 60 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کی چینی برآمد کی۔ 10 برس میں ملک میں گنے کے زیرِ کاشت رقبے میں اضافہ ہوا، جو بڑھ کر 11 لاکھ 95 ہزار ہیکٹر تک پہنچ گیا ہے۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اس وقت عالمی سطح پر چینی پیدا کرنے والا ساتواں بڑا ملک ہے۔ دریں اثناء نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس میں درآمدی چینی کے تصفیے، سیزن 2025-26 کے دوران چینی کی متوقع پیداوار اور ملک میں چینی کی موجودہ قیمتوں سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ ملوں سے لے کر خوردہ سطح تک کمی کے رجحان پر اطمینان کا اظہار کیا۔ نائب وزیر اعظم نے متعلقہ صوبائی محکموں کو ہدایت کی کہ وہ گنے کے کاشتکاروں کو بروقت اور منصفانہ قیمت کی ادائیگی کو یقینی بنائیں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے شوگر سیس کے نفاذ کے بعد لاہور کی اوپن مارکیٹ میں چینی کی قیمت 10 روپے اضافے سے 160 روپے کلو ہو گئی۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق چینی کی قیمت 150 روپے ہونی چاہئے تھی۔ چینی کا 50 کلو کا تھیلا اضافے کے بعد 7 ہزار 500 روپے کا ہو گیا۔ چینی کا ایکس مل ریٹ 135 روپے کلو ہے۔ واضح رہے کہ حکومت پنجاب نے یکم جنوری سے 40 کلو چینی پر 5 روپے شوگر سیس نافذ کیا۔ ڈھائی روپے شوگر مل اور ڈھائی روپے کسان ادا کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: چینی کی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔