لاہور؍ اسلام آباد (کامرس رپورٹر+ نمائندہ خصوصی+ اے پی پی+ نوائے وقت رپورٹ) شوگر ملز ایسوسی ایشن نے پنجاب کا شوگر کین ڈویلپمنٹ سیس 5 روپے سے کم کر کے دیگر صوبوں کے برابر کئے جانے کا مطالبہ کر دیا۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کہا  کہ حکومت پنجاب کی جانب سے شوگر کین ڈویلپمنٹ سیس 1964 سے لاگو ہے اور یہ ٹیکس ہر کرشنگ سیزن میں گنے پر عائد ہوتا ہے۔ تاہم یہ چینی کی پیداواری لاگت میں شامل ہوتا ہے۔ ٹیکس (سیس) حکومت ہر سال شوگر ملوں اور کسانوں سے مساوی طورپر وصول کرتی ہے۔ یہ ٹیکس گنے کی کھیتوں سے ملوں تک کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت، پلوں کی تعمیر اور گنے کی فصل پر تحقیق و ترویج  کیلئے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ شوگر انڈسٹری حکومت سے درخواست کرتی ہے کہ پنجاب میں بھی گنے پر سیس 5 روپے کم کرکے دیگر صوبوں کے برابر کیا جائے۔  وزارت صنعت  کے مطابق 10 سال میں پاکستان نے خام چینی کی درآمد پر 31 کروڑ 40 لاکھ ڈالر خرچ کیے۔ دستاویز کے مطابق سال 2015 سے 2025 کے دوران پاکستان نے مجموعی طور پر 1 ارب 60 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کی چینی برآمد کی۔  10 برس میں ملک میں گنے کے زیرِ کاشت رقبے میں اضافہ ہوا، جو بڑھ کر 11 لاکھ 95 ہزار ہیکٹر تک پہنچ گیا ہے۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اس وقت عالمی سطح پر چینی پیدا کرنے والا ساتواں بڑا ملک ہے۔ دریں اثناء نائب  وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار  کی زیر صدارت اجلاس میں درآمدی چینی کے تصفیے، سیزن 2025-26 کے دوران چینی کی متوقع پیداوار اور ملک میں چینی کی موجودہ قیمتوں سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ ملوں سے لے کر خوردہ سطح تک کمی کے رجحان پر اطمینان کا اظہار کیا۔ نائب وزیر اعظم نے متعلقہ صوبائی محکموں کو ہدایت کی کہ وہ گنے کے کاشتکاروں کو بروقت اور منصفانہ قیمت کی ادائیگی کو یقینی بنائیں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے شوگر سیس کے نفاذ کے بعد لاہور کی اوپن مارکیٹ میں چینی کی قیمت 10 روپے اضافے سے 160 روپے کلو ہو گئی۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق چینی کی قیمت 150 روپے ہونی چاہئے تھی۔ چینی کا 50 کلو کا تھیلا اضافے کے بعد 7 ہزار 500 روپے کا ہو گیا۔ چینی کا ایکس مل ریٹ 135 روپے کلو ہے۔  واضح رہے کہ حکومت پنجاب نے یکم جنوری سے 40 کلو چینی پر 5 روپے شوگر سیس نافذ کیا۔ ڈھائی روپے شوگر مل اور ڈھائی روپے کسان ادا کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: چینی کی

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم