لاہور (نیوزڈیسک)پاکستان شوگرملز ایسوسی ایشن نے شوگر سیس سے متعلق بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ چینی کی قیمتیں اس کی لاگت سے کافی زیادہ کم ہیں، زیادہ ٹیکسز سے شوگر انڈسٹری کی چینی بنانے کی لاگت بہت بڑھ گئی ہے ۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کر دی اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ حکومتِ پنجاب کی جانب سے شوگر کین ڈویلپمنٹ سیس 1964 سے لاگو ہے، یہ ٹیکس ہرکرشنگ سیزن میں ملزمیں لائے گنے پر عائد ہوتا ہے، تاہم یہ چینی کی پیداواری لاگت میں شامل ہوتا ہے، یہ ٹیکس گنے کے کھیتوں سے ملز تک سڑکوں کی تعمیر و مرمت پر استعمال ہوتا ہے، اس کے علاوہ گنے کی فصل پر تحقیق و ترویج کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔

اعلامیہ کے مطابق باقی صوبوں سے زیادہ سیس کاٹنے پر پنجاب کے کاشتکار شوگر ملز سے احتجاج کرتے ہیں، ضلعی حکومتیں یہ سیس وصول کر لیتی ہیں مگر قانون کے مطابق استعمال نہیں کیا جاتا، چینی پر سیلز ٹیکس 18 فیصد ہے،بھارت 5 ، تھائی لینڈ7 اور چین میں 13 فیصدہے، زیادہ ٹیکسز سے شوگر انڈسٹری کی چینی بنانے کی لاگت بہت بڑھ گئی ہے، چینی کی قیمتیں اس کی لاگت سے کافی زیادہ کم ہیں، سندھ اور خیبر پختونخوا میں اس وقت گنے پر کین سیس پنجاب سے بہت زیادہ کم ہے، حکومت سے درخواست ہےپنجاب میں بھی گنے پر سیس 5 روپے سے کم کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟