وادی تیراہ: متاثرین کی رجسٹریشن جاری، 10 جنوری سے باقاعدہ نقل مکانی شروع ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خیبر: صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی وادی تیراہ کے علاقے میدان ملک دین خیل سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی رجسٹریشن کا عمل گزشتہ تین روز سے جاری ہے جبکہ شیڈول کے مطابق 10 جنوری سے باقاعدہ طور پر نقل مکانی کا عمل شروع کیا جائے گا۔
ضلعی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق وادی تیراہ کے علاقے پائیندی چینہ میں متاثرین کے لیے خصوصی رجسٹریشن سینٹر قائم کیا گیا ہے، جہاں اب تک 2500 سے زائد خاندانوں کو رجسٹر کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے 176 خاندانوں کو نادرا اور دیگر متعلقہ محکموں سے کلیئرنس کے بعد ابتدائی طور پر ڈھائی لاکھ روپے فی خاندان مالی امداد فراہم کر دی گئی ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دیگر رجسٹرڈ خاندانوں کو بھی مرحلہ وار ایڈوانس مالی امداد دی جا رہی ہے، شیڈول کے تحت نقل مکانی کا عمل 10 جنوری سے شروع ہو کر 25 جنوری تک جاری رہے گا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق نقل مکانی کرنے والے ہر خاندان کو ڈھائی لاکھ روپے ایڈوانس مالی امداد دی جائے گی جبکہ ہر خاندان کو ماہانہ 50 ہزار روپے امدادی رقم بھی فراہم کی جائے گی، جس کے تحت متاثرین اپنی مرضی کے مطابق رہائش اختیار کر سکیں گے۔
انتظامیہ نے بتایا کہ علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن آئندہ دو ماہ کے اندر مکمل کر لیا جائے گا، جس کے بعد متاثرین کی واپسی اور بحالی کا عمل 5 اپریل سے شروع کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق وادی تیراہ کے علاقے میدان کی مجموعی آبادی تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار افراد پر مشتمل ہے، آپریشن کے دوران مکمل طور پر تباہ ہونے والے مکان کا معاوضہ 30 لاکھ روپے جبکہ جزوی طور پر تباہ ہونے والے مکان کے لیے 10 لاکھ روپے معاوضہ مقرر کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وادی تیراہ نقل مکانی لاکھ روپے کے مطابق کا عمل
پڑھیں:
خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون صارفین کو سمز کے غیر قانونی استعمال اور فراڈ سے بچنے کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اپنی سم کسی دوسرے شخص کو دینا قابلِ سزا جرم ہے، کیونکہ آپ کے نام پر رجسٹرڈ سم کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں استعمال ہو سکتی ہے، جس کی قانونی ذمہ داری بھی سم ہولڈر پر عائد ہو سکتی ہے۔پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ آگاہی پیغام میں کہا گیا ہے کہ تمام صارفین اپنی رجسٹرڈ سمز کی تعداد کی باقاعدگی سے جانچ کریں تاکہ کسی بھی غیر مجاز یا غیر ضروری سم کی بروقت نشاندہی کرکے اسے بلاک کرایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے صارفین cnic.sims.pk پر جا کر یا اپنا 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر بغیر ڈیش کے 668 پر ایس ایم ایس کرکے اپنے نام پر رجسٹرڈ سمز کی تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔اتھارٹی نے ہدایت کی کہ اگر کسی صارف کے نام پر ایسی سم رجسٹرڈ ہو جس کے بارے میں وہ لاعلم ہو یا جس کی ضرورت نہ ہو تو اسے فوری طور پر متعلقہ موبائل کمپنی سے رابطہ کرکے بند کرایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ دھوکا دہی یا غیر قانونی استعمال سے بچا جا سکے۔پی ٹی اے نے مزید کہا کہ نئی سم ہمیشہ متعلقہ موبائل کمپنی کی مستند فرنچائز یا کسٹمر سروس سینٹر سے ہی حاصل کی جائے اور بائیو میٹرک تصدیق کے عمل کے دوران مکمل احتیاط برتی جائے۔ صارفین اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی اجازت اور علم کے بغیر ان کے شناختی کارڈ پر کوئی نئی سم رجسٹرڈ نہ کی جائے۔اتھارٹی نے ایک بار پھر عوام کو متنبہ کیا کہ "مفت سم" یا دیگر پرکشش پیشکشوں کے لالچ میں اپنی بائیو میٹرک تصدیق ہرگز نہ کرائیں، کیونکہ دھوکے باز عناصر اس عمل کے ذریعے آپ کے نام پر اضافی سمز جاری کرا سکتے ہیں، جو بعد ازاں جرائم یا فراڈ میں استعمال ہو سکتی ہیں۔پی ٹی اے نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذاتی معلومات، شناختی دستاویزات اور بائیو میٹرک ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ موبائل آپریٹر یا پی ٹی اے سے رابطہ کریں تاکہ محفوظ اور ذمہ دارانہ موبائل استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔