وادی تیراہ میں آپریشن کی تیاری، علاقہ مکینوں کی نقل مکانی کل سے شروع ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر کے وادی تیراہ کے علاقہ میدان ملک دین خیل سے نقل مکانی کرنے والوں کیلئے رجسٹریشن کا عمل گزشتہ 3 روز سے جاری ہے اور شیڈول کے تحت 10 جنوری سے باقاعدہ طور پر نقل مکانی کا عمل شروع کیا جائے گا۔ضلعی انتظامیہ ذرائع کے مطابق وادی تیراہ کے علاقے پائیندی چینہ میں متاثرین کیلئے خصوصی رجسٹریشن سینٹر قائم کیا گیا ہے جہاں گزشتہ 3 روز سے رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔اب تک مجموعی طور پر 2500 سے زائد خاندانوں کو رجسٹر کیا گیا جن میں 176 خاندانوں کو نادرا سمیت دیگر محکموں سے کلئیرنس کے بعد ابتدائی طور پر مالی امداد ڈھائی لاکھ روپے فی خاندان فراہم کردی گئی ہے۔دیگر رجسٹرڈ خاندانوں کو بھی ایڈوانس مالی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
روس کا گزشتہ شب یوکرین پر اوریشنک میزائلوں سے بڑا حملہ، کیف میں کئی گھنٹوں تک زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں
انتظامیہ کے مطابق شیڈول کے تحت 10 جنوری سے باقاعدہ طور پر نقل مکانی کا عمل شروع کیا جائے گا جو 25 جنوری تک جاری رہے گا۔ نقل مکانی کرنے والے ہر خاندان کو ڈھائی لاکھ روپے ایڈوانس جبکہ ہر خاندان کو ماہانہ 50 ہزار روپے امدادی رقم دی جائے گی جس پر متاثرین اپنی مرضی کی رہائش اختیار کرسکیں گے۔ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن آئندہ دو ماہ کے اندر مکمل کر لیا جائے گا، آپریشن کے بعد متاثرین کی واپسی اور بحالی کا عمل 5 اپریل سے شروع کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق وادی تیراہ کے علاقے میدان کی مجموعی آبادی ایک لاکھ 30 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ آپریشن کے دوران مکمل طور پر تباہ ہونے والے مکان کا معاوضہ 30 لاکھ روپے جبکہ جزوی طور پر تباہ ہونے والے مکان معاوضہ 10 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔
تحریک انصاف نے جناح گراؤنڈ میں جلسے کیلئے 25 لاکھ کا ڈیپازٹ جمع کرادیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: وادی تیراہ نقل مکانی لاکھ روپے جائے گا کا عمل
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔