WE News:
2026-07-24@13:08:05 GMT

کوئٹہ کے ملنے والے کمبلوں کی خاص بات کیا؟

اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT

کوئٹہ میں سردیوں کی شدت بڑھتے ہی گرم کمبلوں کی مانگ میں واضح اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے خاص طور پر ایران سے آنے والے معیاری کمبل شہریوں کی پہلی ترجیح بن گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھاری کمبل میں اچھی نیند کیوں آتی ہے؟

میزان چوک، امانت خان بنیا پلازہ میں کمبلوں کے تاجر محمد جمیل کے مطابق ہر سال سردیوں کے آغاز پر نہ صرف مقامی شہری بلکہ دیگر شہروں سے آنے والے افراد بھی کمبل خریدنے کے لیے کوئٹہ کا رخ کرتے ہیں۔

محمد جمیل نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے پاس دستیاب کمبل زیادہ تر بارڈر ایریاز سے آتے ہیں جن میں ایرانی اور چینی کمبل شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں کوریا اور اسپین کے کمبل زیادہ فروخت ہوتے تھے تاہم اب چین اور ایران کے کمبل مارکیٹ میں نمایاں ہیں جن کی کوالٹی بھی بہتر ہے اور قیمتیں بھی نسبتاً مناسب ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہر سال کمبلوں کی قیمتوں میں اوسطاً 10 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ درآمدی لاگت اور طلب میں اضافہ ہے۔

مزید پڑھیے: غیر قانونی الیکٹرک کمبلوں کی آن لائن فروخت

ریٹس کے حوالے سے محمد جمیل نے بتایا کہ ڈبل بیڈ کمبل 4 ہزار روپے سے شروع ہو کر 9  ہزار روپے سے 10 ہزار روپے تک دستیاب ہیں جبکہ سنگل بیڈ کمبل 3 ہزار روپے سے شروع ہو کر 5 سے 6 ہزار روپے تک فروخت کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ہر قسم اور ہر معیار کے کمبل ان کے پاس دستیاب ہیں جس کی وجہ سے خریداروں کو انتخاب میں آسانی رہتی ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ کے رہائشی شمس الرحمان نے بتایا کہ وہ ہر سال اسی دکان سے کمبل خریدتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں کے کمبل معیار کے لحاظ سے بہترین ہیں اور قیمتیں بھی مارکیٹ کے مقابلے میں کم ہیں۔ شمس الرحمان کے مطابق اگرچہ اب زیادہ تر کمبل چین سے آتے ہیں مگر ان میں بھی اعلیٰ کوالٹی دستیاب ہے جبکہ ایرانی کمبل بھی اپنی مضبوطی اور گرمائش کی وجہ سے خاصے مقبول ہیں۔

مزید پڑھیں: کراچی کی وہ مارکیٹ جہاں لاکھوں کا مال چند ہزار روپوں میں میں ملتا ہے

تاجروں اور خریداروں کے مطابق کوئٹہ میں شدید سردی، گیس کی لوڈشیڈنگ اور درجہ حرارت میں مسلسل کمی کے باعث کمبلوں کی ضرورت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سردیوں کے موسم میں کمبلوں کی فروخت عروج پر پہنچ جاتی ہے اور ایرانی کمبل اپنی پائیداری اور گرمائش کی وجہ سے مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کر رہے ہیں۔ مزید تفصیل جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایرانی کمبل کوئٹہ کوئٹہ کے کمبل گرم کمبل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایرانی کمبل کوئٹہ کوئٹہ کے کمبل کمبلوں کی ہزار روپے کے مطابق بتایا کہ کے کمبل کی وجہ

پڑھیں:

غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی

سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت غیر ضروری وزارتیں اور محکمے ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کر سکتی ہے۔ کمیٹی نے زور دیا کہ وفاق آئین کے مطابق محدود دائرۂ اختیار میں کام کرے اور اٹھارہویں آئینی ترمیم پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

سینیٹرضمیر حسین کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی صوبوں کو منتقلی، وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو اور آئینی اداروں کی فعالیت سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران ارکان نے کہا کہ وفاقی حکومت کو غیر ضروری وزارتوں اور اداروں کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے تاکہ قومی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کو آئینی تقاضوں کے مطابق فعال بنایا جائے اور اس کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔

سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی مشکلات سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، جبکہ آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی وزارتوں اور اخراجات کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔

اجلاس میں سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ تقریباً 3 ارب 70 کروڑ روپے مالیت کا تیل نکلتا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا بھی تیل و گیس کی پیداوار میں نمایاں حصہ رکھتا ہے، تاہم تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو گزشتہ 16 برس سے ان کا آئینی حق نہیں دیا گیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کی مد میں واجب الادا رقوم کیوں ادا نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا آئین اور بہتر طرزِ حکمرانی کے منافی ہے۔

اجلاس کے دوران وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد سے متعلق بریفنگ دی، جبکہ کمیٹی کو آئین کے آرٹیکل 38(جی) سے متعلق بھی رپورٹ پیش کی گئی۔

کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تیل و گیس سے حاصل ہونے والی آمدن اور اس کی تقسیم کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔ ارکان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کا تحفظ، وفاقی نظام کے استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ غیر ضروری سرکاری اخراجات اور ڈپلیکیٹ محکموں کا جامع جائزہ لے کر قومی وسائل کی بچت کو یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • سرکاری ملازمتوں کا شاندار موقع! ماہانہ تنخواہ 1 لاکھ سے 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک
  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
  • عالمی و مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
  • سوناہزاروں روپے سستا، ایک دن کی بڑی کمی نے مارکیٹ ہلا دی
  • کراچی: کیماڑی سے اغواء 7 سالہ بچی کیساتھ قتل سے پہلے زیادتی کی تصدیق
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار