اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ)  وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچے تو ائیر پورٹ پر وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی نے وزیراعظم  کا استقبال کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کو گورنر ہاؤس آمد پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ وزیراعظم سے گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے ملاقات کی۔ ملاقات میں بلوچستان کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ گورنر بلوچستان نے وزیر اعظم کو بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور ان میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی، وفاقی وزراء پروفیسر احسن اقبال، علیم خان، رانا ثناء اللہ اور بلوچستان کے سیاسی رہنما بھی موجود تھے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کے خاتمے، بلوچستان کی ترقی اور قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے ، صوبے کو درپیش سکیورٹی، معاشی اور ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبے کو مل کر آگے بڑھنا ہو گا۔ افواج پاکستان اور سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کے باعث ملک کا دفاع مضبوط ہوا ہے۔ این ایف سی ایوارڈ، بڑے ترقیاتی منصوبوں، دانش سکولز اور زرعی اصلاحات کے ذریعے مل بیٹھ کر اتحاد و اتفاق کے ساتھ بلوچستان کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کیا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں سیاسی رہنماؤں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرگورنر بلوچستان شیخ جعفرخان مندوخیل، وزیراعلیٰ میر سرفراز احمد بگٹی، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، ڈپٹی چیئرمین سینٹ سیدال خان ناصر، وفاقی وزراء احسن اقبال، عبدالعلیم خان، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری، بلوچستان کے صوبائی وزراء میر سلیم کھوسہ، میر شعیب نوشیروانی، میر ظہور احمد بلیدی، صوبائی مشیر نوابزادہ زرین مگسی، ارکان اسمبلی، سیاسی جماعتوں کے قائدین رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع، سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ اور سینیٹر عبدالقادر موجود تھے۔ وزیراعظم سے ملاقات کرنے والوں میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی شامل تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی، صوبائی کابینہ کے ارکان اور سیاسی قیادت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے جغرافیائی لحاظ سے سب سے بڑے صوبے میں تمام تر مشکلات اور چیلنجز کے باوجود موجودہ صوبائی حکومت بلوچستان کے عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہے جو خوش آئند امر ہے۔ خیبر پی کے کی طرح بلوچستان بھی دہشت گردی سے شدید متاثر ہوا ہے تاہم دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے افواج پاکستان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ افواج پاکستان، پولیس، ایف سی، رینجرز، لیویز اور عام شہریوں کی قربانیاں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی۔ فتنہ الخوارج کے خلاف جنگ جاری ہے اور بدقسمتی سے بعض ہمسایہ ممالک کی جانب سے دہشت گردوں کو معاونت دی جا رہی ہے جو انتہائی افسوسناک بات ہے تاہم حکومت اور افواج پاکستان کا عزم پختہ ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھا جائے گا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور افواج پاکستان دلجمعی اور پروفیشنلزم کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کر رہے ہیں جس طرح 6 مئی 2025ء کو بھارت کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مؤثر قیادت کی اور دشمن کو سبق سکھایا وہ تاریخ میں یاد رکھاجائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے این ایف سی ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ2010ء میں این ایف سی ایوارڈ کے وقت بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب محمد اسلم رئیسانی تھے، این ایف سی پر ہمارے کئی نشستیں ہوئیں اور اس دور میں نواز شریف، آصف علی زرداری اور اس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور تمام وزرائے اعلیٰ کے باہمی تعاون سے صوبوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا ایک بڑا علاقہ ہے اور اس وقت وزیراعلیٰ بلوچستان کا مطالبہ جائز تھا اور زیادہ فاصلے کی وجہ سے وسائل زیادہ استعمال ہونے تھے اور اس سلسلے میں پنجاب نے اپنے حصے میں سے سالانہ 11 ارب روپے بلوچستان کو دیئے جس پر انہیں دلی خوشی ہے اور یہ این ایف سی ایوارڈ گزشتہ 16 برس سے نافذ العمل ہے۔ نئے این ایف سی ایوارڈز کیلئے کمیٹیاں کام کر رہی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے، کوئٹہ کراچی شاہراہ بہترین سڑک ہوگی جہاں ٹریفک حادثات میں کمی واقع ہو گی۔ بلوچستان میں ایک ہی وقت میں پانچ دانش سکولز قائم کیے جا رہے ہیں جہاں قلعہ سیف اللہ سے تربت تک غریب اور وسائل سے محروم گھرانوں کے بچے اور بچیاں معیاری تعلیم حاصل کریں گے اور مستقبل میں ملک کا نام روشن کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی اور خوشحالی کے سفر کو مل کر آگے بڑھانا ہے اور مشاورت کے ذریعے تمام چیلنجز کا حل تلاش کیا جائے گا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ نواز شریف نے ہمیشہ بلوچستان کی ترقی و خوشحالی میں بھرپور دلچسپی لی ہے اور وفاق صوبے کے ساتھ مل کر ترقی وخوشحالی کے سفر کو آگے لے کر جائے گا۔ مجھے انتہائی خوشی ہے کہ زرعی ٹیوب ویلوں کی سولر پر منتقلی خوش اسلوبی کے ساتھ مکمل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سال 2022ء میں سیلاب سے بلوچستان میں تباہی ہوئی تو وفاقی حکومت نے ورلڈ بنک سے 400 ملین ڈالرز کے فنڈز حاصل کیے جو صوبے کی بحالی پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ دشمن کے عزائم کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 57 ہزار گھر بنائیں گے۔ بلوچستان میں پانچ دانش سکولوں کا سنگ بنیاد رکھا، دو مزید بنائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے ملک میں کھیلوں کو رونقیں دوبارہ بحال ہوئی ہیں۔ وزیراعظم کی پی ایس ایل کے لئے ٹیموں کے آکشن کے مرحلے کی کامیابی پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو مبارک باد، کہا کہ دو نئی ٹیموں کی آکشن ملک میں کرکٹ کے فروغ کے لئے اہم سنگ میل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف ایف سی ایوارڈ افواج پاکستان بلوچستان میں بلوچستان کے نے کہا کہ انہوں نے کے ساتھ شریف نے اور اس ہے اور

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • ناتمام (آخری قسط)
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ